اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) فلسطینی صدر محمود عباس اور فرانسیسی صدر ایمانویل میکرون کے درمیان حالیہ ملاقات مشرقِ وسطیٰ میں امن اور فلسطینی ریاست کے قیام کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دی جا سکتی ہے۔
پیرس میں ہونے والی اس ملاقات میں دونوں رہنماؤں کے درمیان فلسطینی آئین کی تیاری کے لیے مشترکہ کمیٹی کے قیام پر اتفاق دراصل ایک ایسے تاریخی عمل کی بنیاد ہے جو برسوں سے غیریقینی کا شکار ہے۔
فرانس کا فلسطینی ریاست کے حق میں کھڑا ہونا اور ستمبر میں اس کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا اس بات کا مظہر ہے کہ یورپ میں اب ایک واضح تبدیلی رونما ہو رہی ہے۔ مغربی دنیا کے بعض ممالک، جو طویل عرصے تک اسرائیل کے یکطرفہ مؤقف کے حمایتی رہے، اب توازن کی جانب قدم بڑھا رہے ہیں۔ فرانسیسی صدر میکرون کا فلسطینی آئین کی تیاری میں براہِ راست تعاون کا اعلان دراصل یہ پیغام دیتا ہے کہ فرانس نہ صرف علامتی حمایت بلکہ عملی اقدامات کے ذریعے فلسطینیوں کی ریاستی خودمختاری کو مضبوط بنانا چاہتا ہے۔
فلسطینی آئین کی تشکیل فلسطینی قوم کے لیے ایک آئینی و ادارتی ڈھانچے کی تعمیر کی علامت ہے۔ ایک واضح اور مستحکم آئین ہی وہ بنیاد ہے جس پر ایک خودمختار، شفاف اور جواب دہ ریاست کھڑی ہو سکتی ہے۔ اس عمل میں فرانس جیسے یورپی ملک کی شمولیت نہ صرف تکنیکی و قانونی مدد فراہم کرے گی بلکہ عالمی سطح پر فلسطینی قیادت کی ساکھ کو بھی تقویت دے گی۔
تاہم یہ سفر آسان نہیں۔ اسرائیلی جارحیت، غزہ میں انسانی بحران اور مغربی کنارے میں بڑھتی ہوئی آبادکاری اس عمل کے لیے سب سے بڑی رکاوٹیں ہیں۔ ایسے میں عالمی برادری خصوصاً اقوامِ متحدہ، یورپی یونین اور اسلامی ممالک کو ایک مشترکہ حکمتِ عملی کے ساتھ آگے بڑھنے کی ضرورت ہے تاکہ فلسطینیوں کا حقِ خودارادیت محض وعدوں تک محدود نہ رہے۔
یہ بات حوصلہ افزا ہے کہ محمود عباس نے آئین کا ابتدائی مسودہ صدر میکرون کے حوالے کر کے دنیا کو یہ پیغام دیا ہے کہ فلسطینی قیادت اب بین الاقوامی ضمیر کو جھنجھوڑنے کے بجائے عملی اقدامات کے ذریعے اپنی ریاستی حیثیت مستحکم بنانا چاہتی ہے۔فرانسیسی حمایت کے ساتھ اگر یہ آئینی عمل کامیابی سے مکمل ہو جاتا ہے تو یہ نہ صرف فلسطینی عوام کے لیے امید کی کرن بنے گا بلکہ خطے میں ایک نئے سیاسی توازن کی بنیاد بھی رکھے گا۔ اب وقت ہے کہ دنیا فلسطین کو ایک مظلوم قوم نہیں بلکہ ایک ابھرتی ہوئی ریاست کے طور پر دیکھے — جو انصاف، خودمختاری اور امن کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہے۔