اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) امریکی سیاست ایک بار پھر اپنے ہی جال میں الجھتی نظر آئی۔
اکتوبر کے آغاز میں شروع ہونے والا حکومت کا شٹ ڈاؤن ،جو بالآخر امریکی تاریخ کا سب سے طویل شٹ ڈاؤن ثابت ہوا — اب ختم ہو چکا ہے۔ سینیٹ کے بعد ایوانِ نمائندگان کی جانب سے بھی حکومتی اخراجات سے متعلق بل کی منظوری کے ساتھ، بالآخر وفاقی اداروں کے بند دروازے دوبارہ کھلنے جا رہے ہیں۔یہ شٹ ڈاؤن محض مالیاتی مسئلہ نہیں تھا، بلکہ ایک گہری سیاسی کشمکش کی علامت بن چکا تھا۔ دونوں جماعتوں، ریپبلکن اور ڈیموکریٹس، کے درمیان اختلافات نے اس بحران کو طول دیا۔ ایوانِ نمائندگان میں اگرچہ 222 ارکان نے، جن میں 6 ڈیموکریٹس بھی شامل تھے، بل کے حق میں ووٹ دیا، مگر 209 ارکان نے مخالفت کی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اختلافات کی خلیج اب بھی کم نہیں ہوئی۔
صد رڈونلڈ ٹرمپ کو اب اس بل پر دستخط کرنا ہوں گے تاکہ حکومتی مشینری کو وقتی طور پر دوبارہ فعال کیا جا سکے۔ تاہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر یہ بل صرف 30 جنوری تک کی عارضی فنڈنگ فراہم کرتا ہے، تو کیا یہ بحران واقعی ختم ہوا یا محض وقتی مرہم رکھا گیا ہے؟شٹ ڈاؤن کے نتیجے میں لاکھوں سرکاری ملازمین کی تنخواہیں رکی رہیں، ہوائی ٹریفک کنٹرول نظام مفلوج ہو گیا، اور غریب طبقے کے لیے غذائی امدادی پروگرام معطل رہے۔ یہ سب کسی ایک جماعت کی نہیں، بلکہ پورے جمہوری نظام کی ناکامی کے آثار تھے۔
امریکہ جو دنیا بھر میں جمہوریت کی علامت سمجھا جاتا ہے، اس کا انتظامی ڈھانچہ اس حد تک سیاسی ضد کی نذر ہو جانا لمحۂ فکریہ ہے۔ سیاست اگر عوامی فلاح سے زیادہ جماعتی مفادات کے گرد گھومنے لگے تو پھر نظام کی بنیادیں ہلنے لگتی ہیں — اور یہی کچھ اس شٹ ڈاؤن کے دوران دیکھنے میں آیا۔اب جبکہ حکومت وقتی طور پر فعال ہو گئی ہے، ضرورت اس امر کی ہے کہ امریکی قیادت ذاتی انا اور جماعتی ترجیحات سے اوپر اٹھ کر پائیدار بجٹ معاہدے پر متفق ہو۔ ورنہ یہ بحران چند ہفتوں بعد دوبارہ جنم لے سکتا ہے، جس کے اثرات نہ صرف امریکہ بلکہ عالمی معیشت پر بھی پڑیں گے۔