اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) امریکا نے ایران کے میزائل اور ڈرون پروگرام میں معاونت کرنے والے 32 افراد اور اداروں پر نئی پابندیاں عائد کر دی ہیں۔
امریکی محکمۂ خزانہ کے مطابق، ان پابندیوں کی زد میں آنے والے افراد اور ادارے ایران، متحدہ عرب امارات (یو اے ای)، چین، ترکیہ، ہانگ کانگ، بھارت، جرمنی اور یوکرین میں موجود ہیں۔ یہ تمام عناصر ایرانی میزائل اور ڈرون پروگرام کے لیے خریداری کے غیر قانونی نیٹ ورکس کے ذریعے سرگرم تھے۔
محکمۂ خزانہ کا کہنا ہے کہ یہ نیٹ ورکس امریکا اور اس کے مشرقِ وسطیٰ میں موجود اتحادیوں کے لیے خطرہ بنے ہوئے ہیں اور بحیرۂ روم میں تجارتی سرگرمیوں پر بھی منفی اثر ڈال رہے ہیں۔ امریکا نے عزم ظاہر کیا ہے کہ وہ اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر ایران کے میزائل اور ڈرون پروگرام کے عالمی اثرات کو روکنے کے لیے اقدامات جاری رکھے گا۔
امریکی محکمۂ خارجہ کے مطابق، یہ فیصلہ سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں کا تسلسل ہے، جن کا مقصد ایران کے جارحانہ میزائل پروگرام کو محدود کرنا اور پاسدارانِ انقلاب (IRGC) کو ان وسائل سے محروم رکھنا ہے جو خطے میں عدم استحکام پیدا کرتے ہیں۔
محکمۂ خزانہ نے مزید وضاحت کی کہ یہ پابندیاں ایگزیکٹو آرڈر 13382 کے تحت لگائی گئی ہیں، جو بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کے پھیلاؤ سے وابستہ افراد اور اداروں کو نشانہ بناتا ہے، جبکہ ایگزیکٹو آرڈر 13224 (ترمیم شدہ شکل میں) دہشت گرد تنظیموں اور ان کے حمایتیوں پر پابندیوں کے نفاذ سے متعلق ہے۔امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ایران کے خلاف یہ کارروائی اس کے بڑھتے ہوئے عسکری عزائم کو روکنے اور خطے میں امن و استحکام برقرار رکھنے کی کوششوں کا حصہ ہے۔