اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) للی اور جیک سلیوان کے غائب ہونے کے چھ ماہ گزر گئے ہیں، مگر ان کی گمشدگی کا درد آج بھی دلوں کو ہلا دیتا ہے۔
چھوٹے چھوٹے بچوں کی لاپتہ کہانی نہ صرف ان کے اہل خانہ کے لیے اذیت کا باعث ہے بلکہ پورے معاشرے کے لیے ایک غمگین حقیقت ہے کہ معصوم زندگیوں کا تقدیر بدل سکتی ہے اور ان کے والدین کے لئے ہر دن ایک اذیت بن جاتا ہے۔
پچھلے مئی سے لاپتہ ہونے والے چھ سالہ لیلی اور چار سالہ جیک کی بازیابی کے لیے یہ ہفتہ پکٹو کاؤنٹی میں رضاکاروں کی ایک نئی کوشش دیکھنے کو ملے گی۔ ‘پلیز برِنگ می ہوم’ کے رضاکاروں کی قیادت میں بچوں کے قریب بہنے والے دریا کے کناروں پر خصوصی تلاش کی جائے گی، کیونکہ پانی کی سطح میں تبدیلیوں کے باعث کچھ اہم سراغ ملنے کی توقع ہے۔ چھوٹے بچوں کے والدین اور رضاکار صبح سویرے سے شام تک دن بھر کی محنت کریں گے، اور ضرورت پڑنے پر تلاش اتوار تک جاری رکھی جائے گی۔
ابتدائی تلاش کے دوران، پولیس اور کتوں کی مدد سے 40 کلومیٹر کے علاقے کو چھان بین کی گئی تھی، مگر کوئی اطمینان بخش سراغ نہیں ملا۔ اب یہ نئی کوشش، جو مقامی افراد کے تعاون سے کی جا رہی ہے، امید کی ایک کرن ہے۔ والدین کی بے بسی اور ہر دن کے ساتھ بڑھتی تشویش، اور ہر سراغ کے پیچھے چھپی ممکنہ امید، اس کوشش کو انسانی ہمدردی اور دلی جذبے کی علامت بنا دیتی ہے۔
لیلی اور جیک کی والدہ کی پکار، “میں کبھی بھی اپنے بچوں کو تلاش کرنا نہیں چھوڑوں گی، جب تک وہ محفوظ گھر واپس نہیں آ جاتے”، انسانی محبت اور والدین کی انتہا پسندی کی ایک دل دہلا دینے والی مثال ہے۔ نووا سکاٹیا کی پولیس بھی ہر ممکن کوشش میں مصروف ہے، 960 سے زائد معلومات کی جانچ اور 8,000 ویڈیو فائلوں کا جائزہ لے چکی ہے، مگر بچوں کا کوئی سراغ نہیں ملا۔
یہ کہانی نہ صرف ایک لاپتہ بچے کی تلاش کی ہے، بلکہ یہ انسانی ہمدردی، امید، اور سماجی تعاون کی ضرورت کو بھی اجاگر کرتی ہے۔ جیسے جیسے رضاکار اور اہل خانہ دریا کے کناروں پر سراغ تلاش کرتے ہیں، پورا ملک دعا گو ہے کہ یہ چھوٹے بچے جلدی سے اپنے والدین کے ہاتھوں میں واپس آئیں، اور یہ اذیت ناک صبر ختم ہو۔