اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) لاہور سے تعلق رکھنے والے نوجوان سافٹ ویئر انجینئر محمد عثمان بشیر نے مصنوعی ذہانت (AI) کے شعبے میں جدید ترین ٹیکنالوجی متعارف کراتے ہوئے پاکستان کا نام عالمی سطح پر روشن کر دیا ہے۔
انہوں نے ایسا سافٹ ویئر تیار کیا ہے جو ٹیلی کمیونیکیشن کے شعبے میں **وقت، لاگت اور سرمایہ تینوں کی خاطر خواہ بچت کرتا ہے، اور صارفین کو کم قیمت میں جدید ترین سہولتیں فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
محمد عثمان بشیر کا تیار کردہ اے آئی بیسڈ سافٹ ویئر ٹیلی کام سیکٹر میں کم لاگت والا مکالماتی ایجنٹ (Conversational Agent) فراہم کرتا ہے۔ اس ایجنٹ کو WebRTC (ویب آر ٹی سی) ٹیکنالوجی کے ساتھ ملا کر استعمال کیا جاتا ہے جس کے ذریعے صارفین کو رئیل ٹائم کمیونیکیشن، ویڈیو کالنگ، آڈیو انٹرایکشن اور براہِ راست ڈیٹا ٹرانسفر جیسی سہولیات زیادہ مؤثر، تیز اور سستی طور پر دستیاب ہوتی ہیں۔
محمد عثمان بشیر کی اس ایجاد کو نہ صرف پاکستان بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی بھرپور پذیرائی ملی ہے۔ انہیں دبئی میں منعقد ہونے والے ٹیک نیکسٹ سمٹ میں "WebRTC Excellence Award of Asia” سے نوازا گیا۔ اس ایوارڈ کے لیے بھارت، چین سمیت ایشیا کے مختلف ممالک سے 80 سے زائد امیدواروں نے درخواستیں دی تھیں، مگر محمد عثمان بشیر نے اپنی صلاحیتوں کی بنیاد پر سب کو پیچھے چھوڑتے ہوئے یہ اعزاز اپنے نام کیا۔
اس کے علاوہ انہوں نے کانفرنسنگ آرکیٹیکچر بھی ڈیولپ کیا ہے جو ملٹی روم آڈیو کالز میں سنکرونائزیشن (sync) کو بہتر بناتا ہے۔ یہ ٹیکنالوجی بیک وقت متعدد صارفین کے درمیان اعلیٰ معیار کی آڈیو کمیونیکیشن کو ہموار اور مربوط بناتی ہے، جو بڑی کارپوریٹس، کال سینٹرز، آن لائن میٹنگ پلیٹ فارمز اور ٹیلی کام کمپنیوں کے لیے انتہائی مفید ثابت ہو سکتی ہے۔محمد عثمان بشیر کی یہ کامیابی نہ صرف جدید ٹیکنالوجی کے شعبے میں پاکستان کی بڑھتی ہوئی استعداد کا ثبوت ہے بلکہ یہ بھی ظاہر کرتی ہے کہ پاکستانی نوجوان عالمی معیار کی ایجادات کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔ ان کی یہ ایجاد مستقبل میں ٹیلی کام انڈسٹری کے کئی پہلوؤں کو تبدیل کر سکتی ہے اور پاکستان کے ٹیک سیکٹر کو نئی راہیں دکھا سکتی ہے۔