کینیڈا میں کلون شدہ جانوروں کےگوشت کی فروخت ، صارفین کیسے پہچانیں گے؟

اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) کینیڈا میں ایک اہم اور بظاہر خاموش تبدیلی نے عوامی بحث کو ایک نئی سمت دے دی ہے۔

کلون شدہ جانوروں کی اولاد سے حاصل ہونے والا گوشت ب بغیر کسی لیبل، اور بغیر کسی باضابطہ رسک اسیسمنٹ کے مارکیٹ میں فروخت کیا جا سکتا ہے—اور عام صارف کو شاید اس بات کا علم بھی نہ ہو کہ وہ کیا خرید رہا ہے۔ہیلتھ کینیڈا کا مؤقف ہے کہ کلون جانوروں کا گوشت "نوول فوڈ” کے زمرے سے نکالنے کا فیصلہ جدید سائنسی تحقیق کی روشنی میں کیا گیا ہے۔ ماہرین کے مطابق گزشتہ 25 برس کی سائنسی تحقیق یہ بتاتی ہے کہ صحت کے حوالے سے کوئی خاص خطرہ موجود نہیں۔ لیکن اصل مسئلہ **سائنس نہیں، خاموشی ہے۔** یہی بات فوڈ پالیسی ماہر سلویان شارلیبوا نے بھی کہی—لیکن سوال یہ ہے کہ اگر سب کچھ محفوظ ہے تو شفافیت سے خوف کس بات کا ہے؟
یہاں بنیادی مسئلہ صارف کے حقِ انتخاب کا ہے۔ اگر کوئی شخص روایتی جانوروں کا گوشت خریدنا چاہتا ہے تو یہ اس کا حق ہے۔ اگر وہ کلون شدہ جانوروں سے حاصل شدہ گوشت خریدنے میں کوئی عار نہیں سمجھتا، یہ بھی اس کی پسند ہے۔ لیکن یہ پسند اُس وقت غیر مؤثر ہو جاتی ہے جب مارکیٹ سے لیبل غائب ہوں اور صارف کو خبر ہی نہ ہو کہ وہ کیا خرید رہا ہے۔قومی سطح پر نامیاتی اور انسانی طریقے سے گوشت پیدا کرنے والے ادارے duBreton نے درست خدشات اٹھائے کہ لیبلنگ ختم ہونے سے وہ کمپنیاں بھی اسی صف میں آ کھڑی ہوں گی جو کلوننگ کی حامی ہیں۔ صارف کے لیے فرق کرنا ناممکن ہو جائے گا کہ کون سی کمپنی کلوننگ پر انحصار کرتی ہے اور کون نہیں۔
یہ دلیل بھی وزن رکھتی ہے کہ کلون شدہ گوشت مستقبل میں سستا ہو سکتا ہے اور بہت سے صارفین قیمت کی بنیاد پر انتخاب کرتے ہیں۔ لیکن یہی معاملہ لیبلنگ کے بغیر پیچیدہ ہو جاتا ہے۔ اگر صارف کو علم ہی نہ ہو کہ وہ کس کی قیمت ادا کر رہا ہے—سائنس کی پیش رفت کی یا اپنی لاعلمی کی—تو یہ شفاف پالیسی نہیں کہلا سکتی۔دوسرا اہم سوال یہ ہے کہ ریگولیٹری ادارے عوام سے دور کیوں ہو گئے ہیں؟ جب حکومت کوئی ایسا فیصلہ کرے جس کا اثر پورے معاشرتی اور غذائی نظام پر پڑے، تو اسے پردے کے پیچھے نہیں بلکہ کھلے عام کرنا چاہیے۔ عوامی مشاورت اور واضح وضاحت اس قسم کے فیصلوں کا لازمی حصہ ہوتی ہے۔
آخر میں، سائنس کو روکنا ناممکن ہے، نہ روکنا چاہیے۔ کلوننگ ٹیکنالوجی مستقبل میں خوراک کی قلت کم کرنے، پیداوار بڑھانے اور جانوروں کی بیماریوں پر قابو پانے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ لیکن ٹیکنالوجی جتنی جدید ہو، اتنی ہی زیادہ **شفافیت اور جواب دہی** کی ضرورت بھی ہوتی ہے۔کینیڈا کی حکومت کو چاہیے کہ اگر وہ کلون شدہ گوشت کو مارکیٹ میں لانے کی اجازت دے رہی ہے تو کم از کم لیبلنگ لازماً برقرار رکھے، تاکہ صارف اپنے ضمیر، اپنی صحت اور اپنی جیب—تینوں کے مطابق فیصلہ کر سکے۔

 

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو  800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنا مختصر  تعارف کے ساتھ URDUWORLDCANADA@GMAIL.COM پر ای میل کردیجیے۔

امیگریشن سے متعلق سوالات کے لیے ہم سے رابطہ کریں۔

کینیڈا کا امیگریشن ویزا، ورک پرمٹ، وزیٹر ویزا، بزنس، امیگریشن، سٹوڈنٹ ویزا، صوبائی نامزدگی  .پروگرام،  زوجیت ویزا  وغیرہ

نوٹ:
ہم امیگریشن کنسلٹنٹ نہیں ہیں اور نہ ہی ایجنٹ، ہم آپ کو RCIC امیگریشن کنسلٹنٹس اور امیگریشن وکلاء کی طرف سے فراہم کردہ معلومات فراہم کریں گے۔

ہمیں Urduworldcanada@gmail.com پر میل بھیجیں۔

    📰 اقوامِ متحدہ سے تازہ ترین اردو خبریں