اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) پاکستان اور افغانستان کے درمیان بڑھتی ہوئی سرحدی کشیدگی نہ صرف دونوں ممالک کے لیے خطرناک ہے
بلکہ خطے میں امن و استحکام کے لیے بھی ایک سنگین چیلنج بن گئی ہے۔ حالیہ پیشرفت کے مطابق، روس نے ثالثی کی پیشکش کرتے ہوئے دونوں ملکوں سے تحمل، بات چیت اور مذاکرات کے ذریعے تنازعات کے حل پر زور دیا ہے، جو یقیناً ایک مثبت قدم ہے۔ ایران کی جانب سے بھی اسی مقصد کے لیے ثالثی کی پیشکش پہلے ہی سامنے آ چکی تھی، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ خطے میں امن کی بحالی عالمی برادری کے لیے ایک ترجیح ہے۔
پاکستان اور افغانستان کے تعلقات تاریخی، ثقافتی اور جغرافیائی اعتبار سے گہرے ہیں، لیکن سرحدی تنازعات اور سفارتی کشیدگی نے دونوں ملکوں کے عوام کے لیے معاشی اور سماجی مشکلات پیدا کر دی ہیں۔ ایسے میں روس اور ایران جیسی طاقتوں کی ثالثی کی پیشکش ایک موقع فراہم کرتی ہے کہ مسائل کو خونریزی اور تصادم کے بغیر حل کیا جا سکے۔
خطے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے ضروری ہے کہ دونوں ممالک اپنے اختلافات کو تحمل، مذاکرات اور تعاون کے ذریعے حل کریں۔ کشیدگی کو بڑھانے والے اقدامات صرف خطرات کو بڑھاتے ہیں اور عوام کے روزمرہ مسائل کو مزید پیچیدہ بناتے ہیں۔ عالمی ثالثی کے یہ اقدامات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ خطے کے استحکام کے لیے بین الاقوامی حمایت اور ثالثی نہایت اہم ہے۔پاکستان اور افغانستان کے لیے یہ وقت آزمائش کا ہے کہ وہ اپنے تعلقات میں مثبت رویہ اپنائیں، مذاکرات کے ذریعے مسائل حل کریں اور خطے میں دیرپا امن کی راہ ہموار کریں۔ یہی نہ صرف دونوں ملکوں بلکہ پورے جنوبی ایشیا کے امن اور ترقی کے لیے ضروری ہے۔