اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے روس کے ساتھ تجارتی تعلقات برقرار رکھنے والے ممالک کو سخت خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے تمام ممالک کو شدید معاشی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
غیر ملکی خبر رساں اداروں کے مطابق صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ واشنگٹن روس کے ساتھ کسی بھی قسم کی معاشی سرگرمی کو عالمی امن کے لیے نقصان دہ سمجھتا ہے، اس لیے ایسے ممالک کے خلاف سخت اقدام اٹھایا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ **ایران کو بھی پابندیوں کی فہرست میں شامل کیا جاسکتا ہے**، اگر اس نے امریکی پالیسی کے برخلاف روس کے ساتھ تعاون بڑھایا۔امریکی صدر کا کہنا تھا کہ دنیا کو روس کے رویے سے خبردار رہنا چاہیے، کیونکہ روس کی موجودہ پالیسیوں سے عالمی توازن متاثر ہو رہا ہے۔
دوسری جانب واشنگٹن میں ری پبلکن رہنما بھی روس کے ساتھ کاروبار کرنے والے ممالک کے خلاف پابندیوں سے متعلق نئی قانون سازی پر تیزی سے کام کر رہے ہیں۔ اس مجوزہ قانون کے تحت کسی بھی ملک یا کمپنی کو روس کے ساتھ تجارت کرنے کی صورت میں سخت معاشی نقصان، مالی جرمانے اور عالمی تجارتی نظام سے بے دخلی جیسے اقدامات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کا مقصد روس پر دباؤ بڑھانا ہے تاکہ وہ بین الاقوامی قوانین کی پابندی کرے اور اپنی جارحانہ پالیسیاں ترک کرے۔سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ کی یہ حکمتِ عملی عالمی سطح پر نئے سفارتی تناؤ کو جنم دے سکتی ہے، خاص طور پر ان ممالک کے ساتھ جو روس کے ساتھ توانائی، تجارت یا دفاع کے شعبوں میں گہرے تعلقات رکھتے ہیں۔