اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) برطانیہ نے ایک بار پھر اپنی امیگریشن پالیسی میں ایسی تبدیلیاں متعارف کرائی ہیں۔
جو نہ صرف پناہ گزینوں کے مستقبل پر گہرے اثرات ڈالیں گی بلکہ یورپ بھر میں جاری انسانی ہمدردی کے مباحثے کو بھی ایک نئی سمت دے سکتی ہیں۔ نئی پالیسی کے تحت پناہ گزینوں کو مستقل رہائش دینے کا سلسلہ تقریباً ختم کر دیا گیا ہے، اور ان کی حیثیت اب وقتی تحفظ تک محدود بنا دی گئی ہے۔ اس فیصلے نے ہزاروں افراد کے لیے غیر یقینی کی ایک نئی دیوار کھڑی کر دی ہے۔
پانچ سال بعد مستقل رہائش ملنے کا نظام اب ختم ہو چکا ہے، اور نئی تجویز کے مطابق یہ مدت بیس سال تک بڑھا دی گئی ہے۔ یہ تبدیلی نہ صرف سخت بلکہ غیر حقیقی معلوم ہوتی ہے، کیونکہ جنگ زدہ اور مظلوم طبقات سے توقع رکھنا کہ وہ دو دہائیوں تک اپنی حیثیت کو ثابت کرتے رہیں، انسانی بنیادوں پر بھی سوال اٹھاتا ہے۔
مزید تشویشناک پہلو یہ ہے کہ اگر پناہ گزینوں کے آبائی ملک کو "دوبارہ محفوظ” قرار دیا جاتا ہے تو انہیں واپس بھیجنے کا امکان موجود ہے۔ سوال یہ ہے کہ ایسے فیصلوں میں شفافیت اور انسانی حقوق کے عالمی معیارات کو کس حد تک ملحوظ رکھا جائے گا؟ کیا کسی ملک کو محض سیاسی یا سفارتی بنیادوں پر "محفوظ” کہہ دینا ان افراد کے لیے کافی ہوگا جو برسوں سے تشدد، عدم برداشت اور ظلم سے بھاگ کر آئے تھے؟
پالیسی کا ایک اور کڑا پہلو خاندانی ملاپ (Family Reunion) کے حقوق میں کمی ہے۔ وہ پناہ گزین جو برسوں سے اپنے خاندان سے جدا ہیں، اب برطانیہ میں تحفظ ملنے کے باوجود اپنے پیاروں کو ساتھ نہیں لا سکیں گے۔ یہ اقدام نہ صرف جذباتی اذیت کا باعث بنے گا بلکہ سماجی تنہائی اور ذہنی دباؤ میں بھی اضافہ کرے گا۔
’اچھی شہریت‘ یا "Good Character Test” کو مزید سخت کرنے اور غیر قانونی راستوں سے آنے والوں کی درخواستیں عام طور پر مسترد کرنے کا فیصلہ بظاہر سرحدی تحفظ کے نام پر کیا گیا ہے، مگر یہ حقیقت نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ دنیا کے کئی خطوں میں مجبور اور بے سہارا لوگ قانونی راستے تک رسائی ہی نہیں رکھتے۔
اگرچہ برطانوی حکومت کا مؤقف ہے کہ نئے قوانین ملکی وسائل پر بوجھ کم کرنے اور امیگریشن نظام میں نظم لانے کے لیے ضروری ہیں، مگر یہ سوال بہرحال باقی ہے کہ کیا ترقی یافتہ دنیا کے طاقتور ممالک اپنی ذمہ داریوں سے آہستہ آہستہ دستبردار ہو رہے ہیں؟
انسانی ہمدردی کا تقاضا ہے کہ تحفظ کے متلاشی افراد کے لیے پالیسیاں سخت نہیں بلکہ آسان بنائی جائیں۔ عالمی امن اسی وقت قائم رہ سکتا ہے جب بڑے ممالک کمزور طبقات کے لیے اپنی سرحدیں نہیں، بلکہ اپنے دل کھولیں۔ برطانیہ کی نئی پالیسی اس سمت میں ایک قدم پیچھے ہے، ایک ایسا قدم جو پناہ گزینوں کی تکالیف کو کم کرنے کے بجائے بڑھا سکتا ہے۔