سلامتی کونسل کی قرارداد اور نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی 

اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں غزہ امن منصوبے کی امریکی حمایت یافتہ قرارداد پر ووٹنگ سے قبل

اسرائیلی وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو کا ایک بار پھر فلسطینی ریاست کو نہ ماننے کا اعلان دراصل وہی پرانی ضد ہے جس نے خطے میں خونریزی، عدمِ استحکام اور بے یقینی کو مسلسل ہوا دی ہے۔ دنیا بار بار جنگ کے خاتمے اور امن کے قیام کی بات کرتی ہے، مگر اسرائیلی قیادت اپنی پرانی پالیسیوں میں ایک انچ بھی تبدیلی لانے کو تیار نظر نہیں آتی۔

قرارداد کا تازہ ترین مسودہ اسرائیل اور حماس کے درمیان صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ثالثی میں طے شدہ جنگ بندی کی بنیاد پر تیار کیا گیا ہے، جس کا مقصد غزہ میں ایک عبوری انتظامیہ اور عارضی بین الاقوامی سیکورٹی فورس کی تعیناتی ہے۔ اس تمام عمل میں پہلی بار ایک ممکنہ فلسطینی ریاست کا ذکر شامل ہوا ہے—ایک ایسا اشارہ جو شاید برسوں بعد عالمی سفارت کاری میں ایک نئی سمت کی نمائندگی کرتا ہے۔

لیکن اسرائیلی حکومت نے اسے موقع سمجھنے کے بجائے ایک خطرہ قرار دیتے ہوئے صاف انکار کر دیا ہے۔ نیتن یاہو کا یہ کہنا کہ "فلسطینی ریاست حماس کو نوازے گی” نہ صرف گمراہ کن ہے بلکہ حقیقت سے دور بھی۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہر فلسطینی ادارہ حماس ہے؟ کیا ہر فلسطینی ریاست لازماً اسرائیل کی دشمن ہو گی؟ یا پھر یہ محض وہ بیانیہ ہے جسے دہرا کر اسرائیلی حکومت خود کو اندرونی سیاست میں مضبوط رکھنا چاہتی ہے؟

دنیا بدل رہی ہے، عالمی طاقتوں کی ترجیحات بدل رہی ہیں، مگر اسرائیلی قیادت خطے کے کروڑوں انسانوں کے مستقبل کو پرانی سوچ کی زنجیروں میں جکڑے رکھنا چاہتی ہے۔ فلسطینی ریاست کا وجود نہ صرف فلسطینیوں کا حق ہے بلکہ خطے میں پائیدار امن کے لیے بنیادی شرط بھی۔ اس حقیقت سے طویل عرصہ فرار نے صرف مزید جنگیں، مزید تباہی اور مزید انسانی المیے پیدا کیے ہیں۔

سلامتی کونسل کی قرارداد کوئی جادوئی حل نہیں، مگر یہ امن کی ایک کھڑکی ضرور ہے۔ بدقسمتی سے اسرائیلی حکومت کی ہٹ دھرمی اس کھڑکی کو بھی بند کرنے پر تُلی ہوئی ہے۔ اگر عالمی برادری نے اس موقع کو ضائع ہونے دیا تو تاریخ ایک بار پھر ’’امن کے موقعے کو جنگ میں بدلنے‘‘ کی بھاری قیمت خود خطے کے معصوم لوگوں سے وصول کرے گی۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو  800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنا مختصر  تعارف کے ساتھ URDUWORLDCANADA@GMAIL.COM پر ای میل کردیجیے۔

امیگریشن سے متعلق سوالات کے لیے ہم سے رابطہ کریں۔

کینیڈا کا امیگریشن ویزا، ورک پرمٹ، وزیٹر ویزا، بزنس، امیگریشن، سٹوڈنٹ ویزا، صوبائی نامزدگی  .پروگرام،  زوجیت ویزا  وغیرہ

نوٹ:
ہم امیگریشن کنسلٹنٹ نہیں ہیں اور نہ ہی ایجنٹ، ہم آپ کو RCIC امیگریشن کنسلٹنٹس اور امیگریشن وکلاء کی طرف سے فراہم کردہ معلومات فراہم کریں گے۔

ہمیں Urduworldcanada@gmail.com پر میل بھیجیں۔

    📰 اقوامِ متحدہ سے تازہ ترین اردو خبریں