اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) آزاد کشمیر میں وزیرِ اعظم چوہدری انوار الحق کے خلاف آج ہونے والی تحریکِ عدم اعتماد کا معاملہ محض ایک سیاسی جھڑپ نہیں،
یہ ایک ایسے دور کی عکاسی ہے جہاں پارلیمانی سیاست اور سیاسی مفادات کے تصادم نے ریاست کی سیاسی پختگی کو نئے سرے سے جانچنے کا موقع فراہم کیا ہے۔ پیپلز پارٹی کی جانب سے 38 ارکان کی حمایت کا دعویٰ، اور مخالف ارکان کا مظفرآباد میں جمع ہونا، انصاف کے تقاضوں اور سیاسی استحکام دونوں پر سوالیہ نشان کھڑا کرتا ہے۔آزاد کشمیر کی سیاسی تاریخ اگرچہ مختصر ہے، مگر غیر اعتماد کی تحریکوں کی روایت کم نہیں۔ جِس طرح آج کی تحریک بات چیت کی بجائے سیاسی منیورنگ کا حصہ بنتی نظر آتی ہے، وہ ماضی کی سیاسی لڑائیوں کا تسلسل ہے — وہ لڑائیاں جنہوں نے آزاد کشمیر کی رہنماؤں کو بار بار عہدوں کے بدلاؤ اور غیر یقینی صورتحال میں گھمایا ہے۔
آزاد کشمیر کے 15ویں وزیرِ اعظم چودھری انوار الحق ہیں ، آزاد کشمیر اسمبلی میں اب تک 6 تحریکِ عدم اعتماد پیش کی جا چکی ہیں۔ ان تحریکوں میں سے 4 کامیاب رہی ہیں یعنی چار وزرائے اعظم کو ان سے ہٹایا جا چکا ہے؛ ایک تحریک واپس لے لی گئی اور ایک ناکام رہی۔آزاد کشمیر کی سیاست میں سیاسی عدم استحکام کی یہ روایت نہ صرف حکومت سازی کو پیچیدہ بناتی ہے بلکہ اسمبلی اور عوام کے اعتماد کو بھی متاثر کرتی ہے۔ آج اگر تحریک کامیاب ہوتی ہے، تو اس کا مطلب ہوگا کہ سیاسی قوتیں نہ صرف اقتدار میں تبدیلی لانے میں کامیاب ہو رہی ہیں، بلکہ وہ ایک نئے سیاسی دور کی جانب بھی قدم بڑھا رہی ہیں — ایک دور جہاں پارلیمانی مفاہمت، نمبر گیم اور ممکنہ اتحاد نئے چہرے اور نئی پالیسیاں متعارف کروانا چاہتے ہیں۔ مگر سوال یہ ہے کہ آیا یہ تحریک صرف عہدے کی تبدیلی ہے یا اس کے پیچھے آزاد کشمیر کے مستقبل کی سمت کی کوئی واضح حکمت عملی ہے؟
اگر یہ سیاسی قدم عوام کے حق اور بہتر حکمرانی کی بنیاد پر اٹھایا جائے تو یہ آزاد کشمیر کے لیے مثبت پیش رفت ثابت ہو سکتا ہے۔ بصورتِ دیگر، یہ محض ایک اور سیاسی کھیل بن کر رہ جائے گا، جو ماضی کی طرح آنے والے دنوں میں تناؤ اور عدم استحکام کا نیا باب لکھے گا۔