اردوورلڈ کینیڈا(ویب نیوز)کینیڈا کے صوبہ البرٹا کی حکومت نے حال ہی میں پیش کیے گئے کم از کم اجرت بڑھانے کے بل کو مسترد کر دیا، جس کا مقصد موجودہ اجرت کو بڑھا کر مزدوروں کی مالی حالت بہتر بنانا تھا۔
صوبائی وزرا کا کہنا ہے کہ موجودہ اقتصادی حالات میں اجرت میں اضافہ کاروباروں کے لیے مشکلات پیدا کر سکتا ہے اور نوکریوں کی تعداد پر منفی اثر ڈال سکتا ہے۔
بل میں کم از کم اجرت کو فی گھنٹہ 16 ڈالر سے بڑھا کر 18 ڈالر کرنے کی تجویز دی گئی تھی، جس پر محنت کشوں اور مزدور یونینز نے زور دیا تھا کہ اس سے غریب اور درمیانے طبقے کے مزدوروں کی زندگی بہتر ہو گی اور مہنگائی کے دباؤ کو کم کیا جا سکتا ہے۔ تاہم حکومت نے کہا کہ صوبے کی معیشت ابھی نشیب و فراز کا شکار ہے اور فوری طور پر اجرت بڑھانا چھوٹے اور درمیانے کاروباروں پر بوجھ ڈال سکتا ہے۔
البرٹا کے وزراء نے اپنی وضاحت میں کہا کہ حکومت کم از کم اجرت میں اضافہ کے بجائے دیگر طریقوں سے مزدوروں کی معاونت کر رہی ہے، جیسے تربیتی پروگرام، ٹیکس چھوٹ اور روزگار کے مواقع پیدا کرنا۔ ان کا کہنا ہے کہ اجرت بڑھانے کے لیے ایک متوازن اور مرحلہ وار منصوبہ تیار کیا جائے گا تاکہ معیشت پر منفی اثرات نہ پڑیں۔
اس فیصلے کے بعد مزدور یونینز اور کارکنوں میں بے چینی پائی جا رہی ہے اور انہوں نے حکومت پر دباؤ بڑھانے کے لیے احتجاجی سرگرمیاں شروع کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ مزدوروں کا موقف ہے کہ موجودہ اجرت میں اضافہ ضروری ہے تاکہ زندگی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے ساتھ قدم ملا کر گزارا کیا جا سکے۔
ماہرین کہتے ہیں کہ البرٹا کی معیشت میں تیل اور دیگر قدرتی وسائل پر انحصار کی وجہ سے اجرت میں اضافہ ایک حساس موضوع ہے، اور حکومت کو معاشی استحکام اور مزدوروں کی بھلائی کے درمیان توازن قائم کرنا ہوگا۔ اس فیصلے سے صوبے میں اجرت کی پالیسی پر بحث مزید شدت اختیار کر گئی ہے، اور آنے والے مہینوں میں اس موضوع پر سیاسی اور سماجی محاذوں پر کشیدگی بڑھنے کا امکان ہے۔
نتیجہ یہ نکلا ہے کہ البرٹا حکومت نے کم از کم اجرت بڑھانے کے بل کو مسترد کر کے ایک طرف تو کاروباروں کے تحفظ کو ترجیح دی ہے اور دوسری طرف مزدوروں میں تشویش اور احتجاج کے امکانات پیدا کر دیے ہیں۔