جھوٹا بم الرٹ،،119 زندگیاں خطرے میں، نظام کی کمزوریاں بے نقاب

اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) ہوائی سفر جدید دنیا کی ضرورت بھی ہے اور معمول بھی، مگر اس کے باوجود ایک لمحے کی غفلت یا بےجا حرکت سیکڑوں جانوں کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔

حالیہ واقعہ، جس میں ڈلاس سے شکاگو جانے والی یونائیٹڈ ایئرلائنز کی پرواز کو اس وقت ہنگامی طور پر سینٹ لوئس میں اتارنا پڑا جب ایک مسافر نے اپنی ہی بیوی کے سامان میں بم ہونے کا جھوٹا دعویٰ کیا، نہ صرف قابلِ افسوس ہے بلکہ ایک گہری سوچ کا تقاضا بھی کرتا ہے۔ایسی صورتِ حال میں ابتدائی ذمہ داری یقینی طور پر ایئرلائن کے عملے کی ہوتی ہے، اور اس واقعے میں انہوں نے یہی کیا۔ طیارے کو فوری طور پر اتارا گیا، تمام 119 مسافروں کو محفوظ طریقے سے باہر نکلنے کو کہا گیا، اور بم اسکواڈ کے ذریعے طیارے کی مکمل تلاشی لی گئی۔ خوش آئند امر یہ ہے کہ یہ تمام کارروائی مکمل پیشہ ورانہ انداز میں انجام پائی اور مسافروں کی سلامتی سب سے اوپر رکھی گئی۔ تاہم یہ سوال اپنی جگہ باقی ہے کہ کوئی شخص کس حد تک غیر ذمہ دار ہو سکتا ہے کہ ایک ایسی حرکت کرے جس کے اثرات اتنے شدید ہو سکتے ہیں۔

اس مسافر کی گرفتاری ایک ناگزیر قدم تھا، لیکن یہ بھی ضروری ہے کہ ایسے واقعات کے محرکات کو سمجھا جائے۔ اگر یہ حرکت ذہنی بیماری، نشے یا کسی ذاتی جھگڑے کا نتیجہ تھی تو بھی اس کے نتائج ایک جیسے ہی رہتے ہیں۔ ہوائی سفر کے دوران مسافروں کے لیے نہ صرف قوانین کی پابندی لازم ہے بلکہ ذمہ دارانہ رویے کا مظاہرہ بھی شدید ضروری ہے۔ ایک بے سوچا سمجھے لفظ یا الزام اپنی نوعیت میں دہشت گردی کے خطرے سے کم نہیں ہوتا، کیونکہ اس سے نہ صرف خوف پھیلتا ہے بلکہ ہوائی اڈوں اور سیکیورٹی اداروں کے وسائل بھی برباد ہوتے ہیں۔

یہ واقعہ ہمیں اس وسیع تر حقیقت کی طرف بھی متوجہ کرتا ہے کہ دنیا بھر میں فضائی سفر کی سلامتی مزید چیلنجز کا سامنا کر رہی ہے۔ چند ماہ قبل ایک برطانوی پرواز پر بھی ایک شخص کے "بم” کے نعرے لگانے اور اشتعال انگیز جملوں نے خوف و ہراس پھیلا دیا تھا۔ ایسے واقعات اس بات کا تقاضا کرتے ہیں کہ مسافروں کی ذہنی کیفیت، رویوں اور غیر معمولی حرکات کی نگرانی کے لیے بہتر طریقہ کار تشکیل دیا جائے، تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے کو پیشگی روکا جا سکے۔

ایئرلائنز، ہوائی اڈوں کے حکام اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے اپنی جانب سے بہت سے حفاظتی اقدامات وضع کیے ہیں، مگر سماج کے ہر فرد کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ہوائی سفر اجتماعی ذمہ داری ہے۔ اگر کوئی ایک شخص غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کرے گا تو اس کا خمیازہ پورا جہاز بھگت سکتا ہے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ ایسے واقعات میں سخت قانونی کارروائی کی جائے تاکہ یہ واضح ہو کہ کسی بھی ہوائی جہاز پر جھوٹا بم کا دعویٰ یا جھوٹی دھمکی دینا محض غلطی نہیں بلکہ ایک جرم ہے، جس کا معاشرہ اور ریاست دونوں سخت نوٹس لیتے ہیں۔

آخر میں، یہ واقعہ ایک وارننگ ہے کہ معاشرتی سنجیدگی، قانون کی پاسداری اور فضائی سفر کے اصولوں کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ چکی ہے۔ سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے قواعد موجود ہیں—ضرورت اس بات کی ہے کہ ان پر عمل بھی اسی سنجیدگی کے ساتھ کیا جائے۔

 

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو  800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنا مختصر  تعارف کے ساتھ URDUWORLDCANADA@GMAIL.COM پر ای میل کردیجیے۔

امیگریشن سے متعلق سوالات کے لیے ہم سے رابطہ کریں۔

کینیڈا کا امیگریشن ویزا، ورک پرمٹ، وزیٹر ویزا، بزنس، امیگریشن، سٹوڈنٹ ویزا، صوبائی نامزدگی  .پروگرام،  زوجیت ویزا  وغیرہ

نوٹ:
ہم امیگریشن کنسلٹنٹ نہیں ہیں اور نہ ہی ایجنٹ، ہم آپ کو RCIC امیگریشن کنسلٹنٹس اور امیگریشن وکلاء کی طرف سے فراہم کردہ معلومات فراہم کریں گے۔

ہمیں Urduworldcanada@gmail.com پر میل بھیجیں۔

    📰 اقوامِ متحدہ سے تازہ ترین اردو خبریں