ارد و ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) کینیڈا کی وفاقی حکومت نے اشارہ دیا ہے کہ وہ سویڈن کی دفاعی کمپنی ساب (Saab) سے جدید گریپن لڑاکا طیارے خریدنے میں دلچسپی رکھتی ہے۔
منگل کے روز کابینہ اجلاس سے قبل میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیرِ صنعت میلانی جولی نے کہا کہ حکومت گریپن اور ایف-35 دونوں آپشنز کا ایک ساتھ جائزہ لے رہی ہے۔ ان کے مطابق امریکی کمپنی لاک ہیڈ مارٹن سے ہونے والے ایف-35 معاہدوں کے بدلے کینیڈا کو متوقع صنعتی فوائد اور ملازمتیں نہیں مل سکیں، اس لیے حکومت اب متبادل تجاویز کا بھی باریک بینی سے جائزہ لے رہی ہے۔ جولی نے بتایا کہ ساب نے اوٹاوا کو 10 ہزار نئی کینیڈین نوکریوں کی پیشکش کی ہے، جو حکومت کے لیے انتہائی پرکشش آپشن ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت اس پیشکش کی عملی حیثیت کا بغور جائزہ لے رہی ہے اور ساب کے ساتھ باقاعدہ بات چیت جاری ہے۔ دوسری جانب لاک ہیڈ مارٹن سے بھی اضافی صنعتی فائدے حاصل کرنے پر گفتگو ہو رہی ہے۔
کینیڈا گزشتہ دو دہائیوں سے اپنی پرانی CF-18 فائٹر جیٹ بیڑے کو تبدیل کرنے کے لیے پُرعزم ہے، تاہم روس کی یوکرین پر جارحیت اور بدلتے جیوپولیٹیکل حالات نے اس عمل کو مزید ضروری بنا دیا ہے۔ 2022 میں کینیڈا نے ایف-35 جیٹ خریدنے کے لیے مذاکرات شروع کیے تھے، مگر امریکا کی ٹیکنالوجی پر کنٹرول، برآمدات کی منظوری کے سخت قوانین اور واشنگٹن پر انحصار کم کرنے کے سیاسی دباؤ نے اوٹاوا کو نئے امکانات پر غور کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ دوسری طرف سویڈن کے بادشاہ **کارل شانز دہم گستاف** اور ملکہ **سلویہ** کی تین روزہ سرکاری کینیڈا آمد بھی دونوں ممالک کے درمیان دفاعی و اقتصادی تعلقات کے فروغ کے پس منظر میں اہمیت رکھتی ہے۔ ماہرین کے مطابق گریپن طیاروں کی شمولیت نہ صرف تکنیکی بلکہ صنعتی سطح پر بھی کینیڈا کی دفاعی صنعت کے لیے ایک بڑی تبدیلی ثابت ہو سکتی ہے۔