اردو ورلڈ کینیڈا( ویب نیوز ) اونٹاریو حکومت کی جانب سے PNP کے سکلڈ ٹریڈز اسٹریم کو اچانک معطل کرنے اور سینکڑوں نہیں بلکہ ہزاروں درخواستیں واپس لینے کا فیصلہ پالیسی سازی میں سنجیدگی کی شدید کمی کو ظاہر کرتا ہے۔
ایسا لگتا ہے جیسے صوبائی حکومت انسانی زندگیوں اور کیریئر کو محض کاغذی ڈیٹا کی ایک ’’غلطی‘‘ سمجھ کر نظرانداز کر رہی ہو۔بلاشبہ اگر کسی درخواست میں دھوکہ دہی یا جعل سازی پائی جائے تو اسے مسترد کرنا ضروری ہے، مگر **پوری اسٹریم بند کر دینا اور تمام درخواستوں پر ایک ہی فیصلہ لاگو کر دینا انصاف کے بنیادی اصولوں کے منافی ہے۔ ہر امیدوار کا معاملہ اپنی نوعیت رکھتا ہے، لہٰذا اجتماعی سزا دینا کسی بھی جدید اور ذمہ دار امیگریشن سسٹم کا طریقہ نہیں ہو سکتا۔
یہ حقیقت بھی نظرانداز نہیں کی جا سکتی کہ نوجوان اپنی جمع پونجی، وقت اور ذہنی توانائی لگا کر غیر ملکی تجربہ حاصل کرتے ہیں، سرٹیفکیشن لیتے ہیں اور ہزاروں ڈالر خرچ کر کے ان پروگراموں میں اپلائی کرتے ہیں۔ حکومت کے ایک اچانک فیصلے سے ان کے خواب، منصوبے اور مستقبل کی سمت یکبارگی مفلوج ہو جانا ایک تکلیف دہ حقیقت ہے۔یہ مسئلہ محض امیگریشن کا نہیں، اعتماد کا ہے۔اگر حکومتیں بار بار پالیسی تبدیل کرتی رہیں، اسٹریم کھول کر بند کر دیں، درخواستیں لے کر واپس کر دیں تو نوجوان نسل کا اعتماد ٹوٹ جاتا ہے۔ بیرونی امیدوار کیا، خود کینیڈا میں موجود تارکین وطن اور بین الاقوامی طلبہ بھی مستقبل کی ان پالیسیوں پر یقین نہیں کر پاتے۔
اونٹاریو حکومت کو فوری طور پر اس فیصلے پر نظرثانی کرنی چاہیے —، ہر درخواست کو الگ الگ پرکھا جائے، ✔ جعلی درخواستوں پر سزا دی جائے، ✔ لیکن مستحق نوجوانوں کو موقع فراہم کیا جائے، ✔ اسٹریم کی شفافیت بڑھائی جائے، ✔ آئندہ ایسے اچانک فیصلوں سے گریز کیا جائے،کینیڈا ایک ایسا ملک ہے جو دنیا بھر سے ہنرمند افراد کو خوش آمدید کہنے کے لیے مشہور ہے۔ اس تشخص کو برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ فیصلے سوچ سمجھ کر کیے جائیں، نہ کہ عجلت میں۔