اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) بی سی اسمبلی میں بل 31 کی منظوری محض ایک قانونی کارروائی نہیں، بلکہ صوبے کی معاشی سمت، سیاسی قوت کے توازن اور توانائی کے مستقبل کا وہ موڑ ہے جس کے دور رس اثرات مرتب ہوں گے۔
پرنس جارج سے ٹیرس تک بجلی کی ترسیل کی دوگنی گنجائش رکھنے والی نارتھ کوسٹ ٹرانسمیشن لائن کو حکومت نے جس تیزی سے آگے بڑھایا ہے، اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس منصوبے کو صرف ایک انفراسٹرکچر پروجیکٹ کے طور پر نہیں بلکہ ایک سیاسی وعدے اور معاشی بیانیے کے بنیادی ستون کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔
سیاسی عجلت پسندی یا غیر معمولی عزم؟
وزیراعلیٰ ڈیوڈ ایبی کا اس بل کو حکومت کے اعتماد کے ساتھ جوڑ دینا ایک واضح سیاسی پیغام تھا صوبے کی سمت ہم طے کریں گے، رفتار بھی ہم متعین کریں گے اور کوئی رکاوٹ ہمارے ترقیاتی منصوبے کو نہیں روک سکتی۔یہ سیاسی جارحیت اس وقت مزید نمایاں ہو گئی جب اپوزیشن کی جانب سے بل کو تاخیر کا شکار کرنے کی ساری کوششیں ناکام ہو گئیں۔ناکامی کے باوجود کنزرویٹو رہنما جان رسٹاڈ کا یہ اعتراض کہ حکومت اصل منصوبوں کو روکتی ہے مگر ترسیلی لائن پر جشن مناتی ہے، ایک اہم نکتہ ہے—آخر ایک لائن سے بجلی تو اس وقت تک بہے گی نہیں جب تک اس کا استعمال کرنے والے منصوبے خود چل نہ پڑیں۔
سب سے بڑا سوال — یہ ترقی کس کے لیے؟
بل 31 کے ناقدین خصوصاً گرین پارٹی کا بنیادی اعتراض یہ ہے کہ اس ترسیلی لائن کو صاف توانائی کے مستقبل کی بجائے LNG منصوبوں کی مدد کے لیے آگے بڑھایا جا رہا ہے۔گرین پارٹی کے مطابق بجلی کی تقسیم اور استعمال کے حوالے سے کوئی شفاف معیار سامنے نہیں لایا گیا، جس سے یہ خدشہ جنم لیتا ہے کہ طاقتور لابیز، بڑے کارپوریٹ مفادات اور LNG سرمایہ کار
بجلی کی ترجیحات پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ صاف توانائی، مقامی صنعت یا مستقبل کی ٹیکنالوجی کے پروجیکٹ بجلی سے محروم رہ سکتے ہیں جبکہ LNG جیسے کاربن بھاری منصوبوں کو ترجیح مل سکتی ہے—یہ ایک انتہائی فیصلہ کن پالیسی تضاد ہے۔
فرسٹ نیشنز مشاورت یا صرف رسمی کارروائی؟
اس منصوبے کی حمایت میں نِسگا‘ا نیشن سمیت چند مقامی گروہ ضرور موجود ہیں، مگر گرین پارٹی کے مطابق بیشتر فرسٹ نیشنز کو “لے لو یا چھوڑ دو” کی پیشکش کی گئی۔ یہ طرزِ مشاورت آئینی فرائض، سرکاری وعدوں اور مصالحتی عمل کی روح کے منافی ہے۔ایک ایسے صوبے میں جہاں مصالحت کو حکومت اپنی کامیابی کا بنیادی اصول پیش کرتی ہے، اس منصوبے کی مشاورت قابلِ اعتراض رہی ہے۔یہ بھی ممکن ہے کہ مستقبل میں اس بنیاد پر قانونی چیلنج سامنے آئے، جس سے منصوبے کی رفتار ہی نہیں بلکہ اس کی لاگت پر بھی اثر پڑے گا۔
چھ ارب ڈالر کا سوال: فائدہ کس کو ہوگا؟
ترسیلی لائن کی تخمینی لاگت **6 ارب ڈالر** ہے، جس میں سے انفراسٹرکچر بینک صرف **140 ملین ڈالر** بطور قرض دے رہا ہے—یعنی اصل مالی بوجھ بی سی ہائیڈرو اور بالآخر عوام پر پڑے گا۔یہ سوال ناگزیر ہے کہ کیا یہ سرمایہ LNG منصوبوں کے لیے سبسڈی بن جائے گا؟ کیا عام صارفین کی بجلی مزید مہنگی ہو سکتی ہے؟ کیا صاف توانائی کے مستقبل کی بجائے ہم کاربن پر مبنی ترقی میں سرمایہ کاری کر رہے ہیں؟
یہ وہ سوالات ہیں جن کا جواب حکومت نے ابھی تک نہیں دیا۔
ترقی کی قیمت کیا بی سی اسے برداشت کر سکتا ہے ،ایبی کی ’’Look West‘‘ حکمتِ عملی میں یہ منصوبہ مرکزی حیثیت رکھتا ہے، جو شمالی علاقوں کی ترقی اور صنعتی توسیع کو مستقبل کا محرک قرار دیتی ہے۔