اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) کینیڈا میں شہریت کے قوانین طویل عرصے سے ایک پیچیدہ اور متنازع معاملہ رہے ہیں۔
خصوصاً اُن افراد کے لیے جنہیں "لاسٹ کینیڈینز” کہا جاتا ہے—یعنی وہ لوگ جو بیرونِ ملک کینیڈین والدین سے پیدا ہوئے، مگر قانونی سقم کے باعث شہریت سے محروم رہے۔ اب جب کہ پارلیمنٹ نے یہ بل منظور کرکے شاہی منظوری بھی حاصل کرلی ہے، ایک اہم قانونی خلا تو پُر ہوگیا ہے، تاہم اس قانون سازی نے کئی نئے سوالات بھی جنم دیے ہیں، خاص طور پر بین الاقوامی گود لینے (intercountry adoption) سے متعلق پیچیدگیاں بدستور موجود ہیں۔
غیر آئینی قانون اور ضروری اصلاحات
2009 کے قانون میں یہ شرط شامل کی گئی تھی کہ اگر کینیڈین والدین خود بیرونِ ملک پیدا ہوئے ہیں، تو وہ صرف اسی صورت اپنی اولاد کو شہریت منتقل کرسکتے ہیں جب بچہ کینیڈا میں پیدا ہو۔ یہ قانون 2023 میں اونٹاریو کی عدالت نے غیر آئینی قرار دیا، کیونکہ اس سے ہزاروں خاندان متاثر ہوئے، جن میں بیرون ملک مقیم وہ کینیڈینز بھی شامل تھے جنہیں اپنے بچوں کی شہریت کے لیے غیر منصفانہ رکاوٹوں کا سامنا تھا۔
نئے قانون کے مطابق اب شہریت نسلاً بعد نسل منتقل ہوسکے گی—بشرطیکہ والدین نے مجموعی طور پر تین سال کینیڈا میں گزارے ہوں۔ بظاہر یہ اصول منصفانہ اور منطقی محسوس ہوتا ہے، کیونکہ اس سے کینیڈا سے حقیقی تعلق رکھنے والوں کو شہریت کا حق فراہم ہوتا ہے۔
اصل مسئلہ: بین الاقوامی طور پر گود لیے گئے بچوں کے ساتھ امتیاز ،سینیٹر ڈیوڈ آرنوٹ نے اس بل میں ایک بنیادی خامی کی نشاندہی کی ہے
بین الاقوامی طور پر گود لیے گئے بچوں (intercountry adoptees) کے ساتھ امتیازی سلوک ۔یہ وہ بچے ہیں جو بیرون ملک پیدا ہوئے، مگر کینیڈین والدین نے انہیں قانونی، سخت اور کئی سطحوں سے منظور شدہ طریقہ کار کے تحت گود لیا۔ ایک بار جب وہ کینیڈا میں بس جاتے ہیں، تو انہیں ہر اعتبار سے مقامی (domestic) گود لینے والے بچوں کے برابر حقوق ملنا چاہئیں۔ یہی بات ہیگ کنونشن بھی واضح طور پر تقاضا کرتا ہے۔
لیکن نئے قانون کے تحت اگر یہ بین الاقوامی طور پر گود لیے گئے بچے بڑے ہوکر بیرون ملک بسیں اور وہاں ان کے بچے ہوں، تو ان کی اولاد کو شہریت منتقل کرنے کے لیے انہیں "substantial connection test” پورا کرنا ہوگا—جبکہ مقامی طور پر گود لیے گئے بچوں کے لیے یہ شرط نہیں ہے۔ یہ واضح اور سنگین امتیاز ہے۔
چارٹر چیلنج کی تیاری: قانونی جنگ کے آثار
متعدد امیگریشن وکلاء کے مطابق یہ صورت حال کینیڈا کے **چارٹر آف رائٹس اینڈ فریڈمز** کی خلاف ورزی ہے، خاص طور پر سیکشن 15 کی، جو امتیازی سلوک کی ممانعت کرتا ہے۔ اس لیے ممکن ہے کہ جلد ہی اس قانون کے خلاف عدالتی چیلنج دائر کیا جائے۔یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب عدالت نے پہلے ہی شہریت کے قوانین کو غیر آئینی قرار دیا تھا، تو پارلیمنٹ نے نئی قانون سازی میں ایسے سقم کیوں چھوڑے جو آئندہ مزید قانونی تنازعات کو جنم دیں؟
سیاسی رسہ کشی اور قانون سازی کا دباؤ
یہ بھی حقیقت ہے کہ حکومت کے پاس 20 جنوری کی عدالتی ڈیڈ لائن موجود تھی۔ مختلف جماعتوں نے بل میں ترامیم لانے کی کوشش کی، مگر سیاسی اختلافات اور وقت کی کمی کے باعث یہ ممکن نہ ہوسکا۔قانون سازی کا یہ عمل ہمیں بتاتا ہے کہ انسانی حقوق جیسے حساس معاملات میں اتفاقِ رائے کا فقدان اکثر نئے مسائل پیدا کردیتا ہے۔کیا یہ حل دیرپا اور جامع ہے؟
اگرچہ "لاسٹ کینیڈینز” کے لیے یہ قانون ایک بڑی پیش رفت ہے، لیکن اس کی کچھ دفعات نئے امتیازات اور پیچیدگیوں کا راستہ کھولتی ہیں—خاص طور پر بین الاقوامی طور پر گود لیے گئے بچوں کے بارے میں غیر واضح اور غیر منصفانہ شرائط۔
نیا قانون یقیناً مثبت پیش رفت ہے، لیکن یہ ادھورا ہے۔ شہریت کسی ملک کی بنیادی شناخت ہے، اور اس کے قوانین میں کسی بھی قسم کا امتیاز نہ صرف قانونی پیچیدگیاں پیدا کرتا ہے بلکہ ہزاروں خاندانوں کے مستقبل کو بھی غیر یقینی بنا دیتا ہے۔حکومت کو اس بل کو حتمی حل سمجھنے کے بجائے اسے ایک ابتدا کے طور پر لینا چاہیے—اور آئینی، انسانی اور اخلاقی تقاضوں کے مطابق اس میں مزید بہتری لانی چاہیے۔