کینیڈا میں بڑھتی مہنگائی ، کینیڈین گھرانوں کا طرزِ زندگی بدلنے لگا

اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) کینیڈا میں خوراک کی مسلسل بڑھتی ہوئی قیمتیں اب صرف ایک معاشی مسئلہ نہیں رہیں، یہ ایک سماجی اور طرزِ زندگی کا بحران بنتی جا رہی ہیں۔

تازہ سروے کے نتائج واضح کرتے ہیں کہ مہنگائی نے نہ صرف کینیڈین صارفین کی خریداری کی عادات بدل دی ہیں بلکہ ان کے کھانے، پکانے اور روزمرہ کے فیصلوں پر بھی گہرا اثر ڈالا ہے۔چار میں سے پانچ کینیڈین افراد خوراک کو اپنی سب سے بڑی مالیاتی پریشانی قرار دیتے ہیں  اگرچہ گزشتہ برس کے مقابلے یہ دباؤ کچھ کم ہوا ہے، مگر پھر بھی خوراک کی قیمتیں بجلی، کرایہ، ٹرانسپورٹ اور دیگر بنیادی اخراجات کے مقابلے میں کہیں زیادہ تشویش کا باعث ہیں۔ سروے کے مطابق آدھے سے زیادہ کینیڈین افراد نے اعتراف کیا کہ انہیں گزشتہ سال کھانے پینے کی اشیا کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ محسوس ہوا ہے، جس نے ان کے ماہانہ بجٹ کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔

یہ صورتحال صرف جیب پر پڑنے والا بوجھ نہیں، بلکہ ہمارے معاشرتی رویوں میں ایک خاموش تبدیلی کو جنم دے رہی ہے۔ لوگ اب برانڈ کی بنیاد پر نہیں بلکہ قیمت کی بنیاد پر فیصلہ کرتے ہیں۔ وہ پہلے سے کہیں زیادہ سیل دیکھتے ہیں، ڈسکاؤنٹس تلاش کرتے ہیں، کوپن استعمال کرتے ہیں اور سستی دکانوں کا رخ کرتے ہیں۔ تازہ گوشت، پھل اور مخصوص پروسیسڈ فوڈز جیسی چیزیں اب عیش و عشرت کا سامان بننے لگی ہیں۔
ریستورانوں اور ٹیک آؤٹ پر خرچ بھی کم ہو رہا ہے۔  لوگ گھروں میں زیادہ کھانا پکانے پر مجبور ہیں اور کم سے کم غیر ضروری شے خریدنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ رویہ ایک ایسی معیشت کا آئینہ دار ہے جہاں صارفین ہر خریداری سے پہلے حساب کتاب کرنے پر مجبور ہیں۔
تاہم قیمتوں کے مسئلے کے ساتھ ایک اور اہم عنصر سامنے آ رہا ہے— **اعتماد کا بحران۔** بڑے گروسری ریٹیلرز پر اعتماد کم ہو رہا ہے۔ صارفین یہ سمجھتے ہیں کہ قیمتوں کے تعین میں شفافیت نہیں، جبکہ منافعوں میں اضافہ انہیں مزید بےچین کرتا ہے۔ ان کے نزدیک قیمتیں صرف مہنگائی کی وجہ سے نہیں بڑھ رہیں، بلکہ فوڈ چین میں طاقت اور معلومات کی غیر مساوی تقسیم بھی اس کا حصہ ہے۔
مگر اس مایوس کن صورتحال کے باوجود ایک مثبت تبدیلی سامنے آئی ہے:  کینیڈین مصنوعات اور مقامی خوراک کے لیے بڑھتی ہوئی حمایت صارفین مقامی پیداوار کو ترجیح دے رہے ہیں، کیونکہ انہیں لگتا ہے کہ اس سے نہ صرف معیشت مضبوط ہوگی بلکہ وہ اپنی خوراک کے معیار اور منصفانہ قیمتوں پر کچھ حد تک کنٹرول حاصل کر سکیں گے۔ اس رجحان میں ملک کی فوڈ سکیورٹی اور خود مختاری کا تصور بھی شامل ہے، جو بدلتی ہوئی عالمی صورتحال میں خاص اہمیت رکھتا ہے۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو  800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنا مختصر  تعارف کے ساتھ URDUWORLDCANADA@GMAIL.COM پر ای میل کردیجیے۔

امیگریشن سے متعلق سوالات کے لیے ہم سے رابطہ کریں۔

کینیڈا کا امیگریشن ویزا، ورک پرمٹ، وزیٹر ویزا، بزنس، امیگریشن، سٹوڈنٹ ویزا، صوبائی نامزدگی  .پروگرام،  زوجیت ویزا  وغیرہ

نوٹ:
ہم امیگریشن کنسلٹنٹ نہیں ہیں اور نہ ہی ایجنٹ، ہم آپ کو RCIC امیگریشن کنسلٹنٹس اور امیگریشن وکلاء کی طرف سے فراہم کردہ معلومات فراہم کریں گے۔

ہمیں Urduworldcanada@gmail.com پر میل بھیجیں۔

    📰 اقوامِ متحدہ سے تازہ ترین اردو خبریں