اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) انسانی تخیل کی پرواز اور سائنس کی ترقی نے ہمیں خلا کی سرحدوں تک پہنچا دیا ہے،
لیکن خلا کی سختیوں میں زندہ رہنا ابھی بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔ ایسے ماحول میں جہاں ویکیوم، انتہائی درجہ حرارت کی تبدیلیاں، انتہائی تابکاری اور آکسیجن کی کمی معمول ہیں، زندگی کی موجودگی پر یقین کرنا مشکل ہے۔مگر جاپانی محققین نے ثابت کیا ہے کہ بعض جاندار، جیسے موس Physcomitrium patens ان شدید حالات کا مقابلہ کر سکتے ہیں۔یہ موس نو ماہ تک بین الاقوامی خلائی اسٹیشن کے باہر سخت خلا میں رہا۔ اگرچہ نوجوان جویونائل موس زندہ نہ رہ سکا، مگر اسپورو فائیٹس میں 80 فیصد نے بقا پائی اور زمین پر واپس آ کر 90 فیصد سپورز نے دوبارہ اگنے کی صلاحیت دکھائی۔ یہ حقیقت نہ صرف سائنسدانوں کے لیے شگفتگی کا باعث ہے بلکہ انسانوں کے خلا میں رہنے کے امکانات کے لیے بھی ایک اہم سبق ہے۔
اگرچہ ابھی یہ تحقیق ابتدائی مرحلے میں ہے، مگر اس سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ کس طرح زمین کے سخت ماحول سے نکلنے والے جاندار خلا کی سختیوں کا مقابلہ کر سکتے ہیں۔ مستقبل میں، جب انسان چاند یا مریخ پر مستقل زندگی کے امکانات تلاش کریں گے، ایسے پودے صرف غذا نہیں بلکہ ذہنی سکون اور ماحولیاتی استحکام کا ذریعہ بھی بن سکتے ہیں۔یہ تحقیق انسانیت کے لیے ایک واضح پیغام رکھتی ہے: **زندگی کی بقا میں چھپی طاقت اور مظبوطی کو پہچانیں، اور خلا میں نئی زندگی کے خواب دیکھیں۔ موس کی سختی، حفاظتی ساخت اور بقا کی صلاحیت ہمیں سکھاتی ہے کہ اگر درست ماحول اور دیکھ بھال ہو تو یہاں بھی زندگی ممکن ہے۔محققین کی امید ہے کہ یہ مطالعات مستقبل میں چاند اور مریخ پر ماحولیاتی نظام قائم کرنے کے لیے ابتدائی قدم ثابت ہوں گے۔ اور یہی وہ سبق ہے جو ہمیں یاد دلاتا ہے کہ زندگی کی تلاش میں سبز کرنیں بھی اہم کردار ادا کر سکتی ہیں، چاہے وہ زمین پر ہوں یا خلا کی تاریکی میں۔