اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) امریکی وفاقی عدالت نے حال ہی میں ایک تاریخی فیصلہ سناتے ہوئے ٹرمپ انتظامیہ کو واشنگٹن ڈی سی میں فوج کی تعیناتی سے روک دیا ہے۔
جج نے واضح کیا کہ صدر کسی بھی وجہ سے بغیر قانونی جواز کے فوجی تعینات نہیں کر سکتے، اور یہ فیصلہ آئین اور قانون کی بالادستی کی علامت کے طور پر سامنے آیا ہے۔یہ اقدام امریکی جمہوریت میں توازن اور قانونی حدود کی یاد دہانی ہے۔ صدر کی طاقت محدود ہے اور عدالتیں اس طاقت کا جائزہ لینے اور اسے روکنے کا حق رکھتی ہیں، تاکہ آئینی حدود کی خلاف ورزی نہ ہو۔ واشنگٹن میں فوج کی تعیناتی کا مسئلہ محض سیکیورٹی یا انتظامی سوال نہیں بلکہ آئینی سوال بھی ہے، اور عدالت نے اس میں اپنی بالادستی کا حق استعمال کیا۔
عدالت نے حکومت کو اپنے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کرنے کے لیے 21 دن کا وقت دیا ہے، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی عدالتی نظام میں ہر کارروائی کو قانونی جواز کے مطابق طے کیا جاتا ہے۔ اس فیصلے کے بعد صدر ٹرمپ کو ایک بار پھر قانونی رکاوٹ کا سامنا ہے، اور یہ امریکی عوام اور دنیا کے لیے واضح پیغام ہے کہ طاقت اور قانون کے درمیان توازن برقرار رکھنا ناگزیر ہے۔
امریکی محکمہ انصاف نے عدالت کے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ حکومت کے اس انتظامی حکم کو معطل کرنے کی کوئی وجہ نظر نہیں آتی، جو کہ عدالت کے فیصلہ کی مضبوطی کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ واقعہ آئندہ امریکی سیاست میں بھی اہم موڑ ثابت ہوگا، کیونکہ یہ قانونی دائرہ اختیار اور فوجی طاقت کے استعمال کے حدود کو واضح کرتا ہے۔