اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز)امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور نیویارک کے نومنتخب میئر ظہران ممدانی کے درمیان وائٹ ہاؤس میں ہونے والی ابتدائی ملاقات ملکی اور عالمی سطح پر غیر معمولی توجہ کا مرکز بنی رہی۔
اس ملاقات کے بارے میں مختلف سیاسی حلقوں میں کئی خدشات اور تاویلات پائی جا رہی تھیں، خصوصاً یہ کہ آیا ممدانی اسرائیلی وزیرِاعظم بینجمن نیتن یاہو کی ممکنہ گرفتاری سے متعلق کوئی دباؤ یا بیان دیں گے یا نہیں۔ تاہم گفتگو کے بعد دونوں رہنماؤں نے واضح کر دیا کہ اجلاس کا محور صرف نیویارک کے داخلی معاملات تھے، نہ کہ کسی عالمی رہنما کے خلاف قانونی کارروائی۔ملاقات کے فوراً بعد صدر ٹرمپ نے میڈیا کو بتایا کہ ان کی گفتگو نہایت مثبت اور تعمیری ماحول میں ہوئی۔انہوں نے کہا کہ”ظہران ممدانی نیویارک کے لیے بڑے فیصلے کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، اور اگر وہ شہر کو مؤثر طریقے سے چلاتے ہیں تو میں ان کا سب سے بڑا حمایتی ہوں گا۔ ہم ان کے ساتھ مکمل رابطے میں رہیں گے اور ضرورت پڑنے پر ہر ممکن تعاون فراہم کریں گے۔”ٹرمپ کے مطابق نئے میئر بعض ایسے اقدامات بھی کریں گے جو امریکا کے قدامت پسند حلقوں کے لیے غیر متوقع ہوں گے، تاہم انہوں نے عندیہ دیا کہ وہ ممدانی کے ساتھ کام کرنے کے خواہش مند ہیں۔
پریس کانفرنس کے دوران جب ٹرمپ سے پوچھا گیا کہ آیا ملاقات میں نیتن یاہو کی ممکنہ گرفتاری کا معاملہ زیرِ بحث آیا، تو صدر کا مؤقف واضح تھا”اس موضوع پر کوئی گفتگو نہیں ہوئی۔”اس جواب کے بعد وہ تمام افواہیں دم توڑ گئیں جن میں قیاس آرائی کی جا رہی تھی کہ ممدانی ممکنہ طور پر بین الاقوامی war crimes تحقیقات کے تناظر میں سخت مؤقف اختیار کر سکتے ہیں۔میئر ظہران ممدانی نے بھی ملاقات کے بعد گفتگو کی اور ٹرمپ کے ساتھ ہونے والی بات چیت کو مثبت قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ نیویارک کے عوام کے مسائل، خصوصاً رہائش، بنیادی سہولیات اور تحفظ کے حوالے سے صدر کے ساتھ مل کر کام کریں گے۔اگرچہ انہوں نے اسرائیل یا نیتن یاہو کا نام نہیں لیا، لیکن امریکا کی غیر مشروط غیر ملکی فنڈنگ پر ضرور تنقید کی۔ ممدانی نے کہا کہ”میرے ووٹرز اور ٹرمپ کے کئی حامی اس بات پر متفق ہیں کہ امریکی ٹیکس دہندگان کا پیسہ ایسے ممالک کو نہیں جانا چاہیے جہاں انسانی حقوق پامال کیے جاتے ہوں۔”
یہ بیان بظاہر امریکی خارجہ پالیسی پر نرم لیکن اصولی تنقید سمجھا جا رہا ہے۔صدر ٹرمپ نے ملاقات کے دوران اپنی خارجہ پالیسی کا ذکر کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ان کی قیادت نے دنیا میں امن قائم کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کے مطابق”میں نے آٹھ بڑی جنگیں رکوا کر مشرقِ وسطیٰ سمیت مختلف علاقوں میں استحکام پیدا کیا، جس میں پاک بھارت امن ڈیل بھی شامل ہے۔” سیاسی تجزیہ کار اس بیان کو آنے والے امریکی انتخابی ماحول کے تناظر میں ٹرمپ کی سیاسی حکمت عملی قرار دے رہے ہیں، کیونکہ وہ خود کو امن لانے والے عالمی رہنما کے طور پر پیش کرنا چاہتے ہیں۔