اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) بیلا کُولا میں اسکول گروپ پر گرزلی ریچھنی اور اس کے دو بچوں کے ممکنہ حملے نے کینیڈا میں جنگلی حیات سے جڑے خطرات پر ایک بار پھر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
یہ واقعہ نہ صرف مقامی کمیونٹی بلکہ پورے ملک کے لیے ایک تنبیہ ہے کہ جنگلی جانوروں کے ساتھ بقائے باہمی کے اصول اب محض نظریاتی بحث نہیں رہے، بلکہ عملی اور فوری فیصلوں کے متقاضی ہیں۔واقعے کی تفصیلات خوفناک ہیں: ایک اسکول گروپ، دو افراد نازک حالت میں، دو شدید زخمی، اور تین ریچھ جن کی موجودگی اس علاقے میں پہلے بھی دیکھی جاتی رہی تھی۔
تحقیقاتی افسران نے واضح کیا ہے کہ علاقے میں ریچھوں کی تعداد غیر معمولی طور پر زیادہ ہے، اور یہی حقیقت خود خطرات کو بڑھا رہی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی حقیقت ہے کہ ایسے واقعات فوری ردعمل نہیں بلکہ طویل المیعاد پالیسی اور مینجمنٹ کی ناکامی کی علامت ہوتے ہیں۔بی سی کنزرویشن آفیسرز کی جانب سے جال بچھانا، تھرمل امیجنگ، ڈی این اے سیمپلنگ اور تجربہ کار ویٹرنری ٹیموں کی مدد سے ریچھوں کی شناخت کی کوششیں قابلِ تعریف ہیں۔ لیکن اس سب کے باوجود اصل سوال اپنی جگہ موجود ہے: کیا ہم جنگلاتی علاقوں میں انسانی سرگرمیوں کے لیے مناسب انتظامات اور حفاظتی پروٹوکول رکھتے ہیں؟ کیا ہم نے خطرناک جنگلی حیات کے ساتھ اٹھنے بیٹھنے کے بڑھتے امکانات کو سنجیدگی سے لیا ہے؟
یہ بھی اہم ہے کہ وہ ریچھ جو حملے میں ملوث نہیں، انہیں فوراً ہلاک کرنے کے بجائے محفوظ علاقوں میں منتقل کیا جائے۔ بی سی کا جنگلی حیات کے تحفظ کا ریکارڈ دنیا میں مثال رکھتا ہے، اور اس واقعے کے باوجود انسانی جان اور جانور کی بقا کو متوازن رکھنا ہی ایک ذمہ دار معاشرے کی پہچان ہے۔اس واقعے نے ایک اور بحث کو بھی جنم دیا ہے — کیا صوبے میں گرزلی شکار پر عائد پابندی کا ازسرِنو جائزہ لیا جانا چاہیے؟** یہ رائے موجود ہے کہ شکار پر پابندی کے بعد بعض علاقوں میں ریچھوں کی آبادی تیزی سے بڑھی اور انسانی آبادی سے ان کے رابطے میں اضافہ ہوا۔ لیکن اس ممکنہ فیصلے پر جذبات یا جلد بازی میں نہیں، بلکہ ٹھوس سائنسی معلومات اور ماحولیاتی حقائق کو سامنے رکھ کر گفتگو ہونی چاہیے۔
سب سے زیادہ تعریف ان اساتذہ کی بنتی ہے جنہوں نے خوفناک صورتِ حال میں ہمت دکھائی اور بچوں کو بچانے میں ہر ممکن کوشش کی۔ ان کی بہادری قابلِ ستائش ہے اور ہمیں یاد دلاتی ہے کہ ہنگامی حالات کا سامنا کرنے کے لیے تربیت اور فوری اقدامات کتنے ضروری ہیں۔بیلا کُولا کے واقعے کا تقاضا ہے کہ ہم جنگلی حیات کی پالیسی، مقامی کمیونٹیز کی آگاہی، اسکولوں کے پروٹوکول، اور خطرناک جانوروں کی مانیٹرنگ کے نظام کو نئے سرے سے دیکھیں یہ صرف ایک حادثہ نہیں — یہ ایک انتباہ ہے کہ انسان اور جنگلی حیات کا فاصلہ کم ہو رہا ہے، اور اگر ہم نے آج سمجھداری سے فیصلہ نہ لیا تو مستقبل میں اس کی قیمت کہیں زیادہ چکانی پڑے گی۔