اردوورلڈکینیڈا( ویب نیوز)جینیٹ رائٹ، جو فلور پلے ساکس نامی موزوں کی خصوصی دکان کی مالک ہیں اور جی ٹی ایچ اے میں ان کی متعدد شاخیں ہیں، کینیڈا پوسٹ اور پوسٹل ورکرز کی یونین کے درمیان ممکنہ معاہدے کی خبر کا خیرمقدم کرتی ہیں۔ اس معاہدے کے بعد ہڑتال کی کارروائی عارضی طور پر روک دی گئی ہے۔ رائٹ کہتی ہیں کہ انہیں امید ہے یہ معاہدہ برقرار رہے، کیونکہ کرسمس کے موسم میں ماضی میں ہونے والی ہڑتال نے ان کے کاروبار کو شدید متاثر کیا تھا۔ ان کے مطابق جب کینیڈا پوسٹ ہڑتال پر تھی تو وہ ڈلیوری کی ضمانت نہیں دے سکتی تھیں، جس کے باعث انہیں مہنگی کورئیر سروسز استعمال کرنا پڑیں۔
جمعے کے روز کینیڈا پوسٹ اور کینیڈین یونین آف پوسٹل ورکرز نے ایک اصولی معاہدے کا اعلان کیا، حالانکہ اس کی تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔ اس پیش رفت کا فائدہ یہ ہے کہ اب روٹیٹنگ ہڑتالیں اور ممکنہ لاک آؤٹ رک جائیں گے، جس سے کرسمس سیزن میں ڈاک اور پارسل کی ترسیل مسلسل جاری رہنے کی توقع ہے۔ ریٹیل تجزیہ کار بروس ونڈر کا کہنا ہے کہ کاروبار غیر یقینی صورتحال برداشت نہیں کر سکتے، اور اگر یہ عبوری معاہدہ ناکام ہو جاتا ہے تو تاجر دوبارہ شدید مشکلات کا سامنا کریں گے۔
ٹورنٹو کی کوئن اسٹریٹ ویسٹ پر خریداروں نے بتایا کہ وہ ابھی بھی مکمل طور پر کینیڈا پوسٹ پر انحصار کرنے سے ہچکچا رہے ہیں اور زیادہ تر ان اسٹور خریداری کو ترجیح دیں گے۔ ونڈر کے مطابق سسٹم میں پہلے سے موجود بیک لاگ کے باعث ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ جو پارسل 25 دسمبر تک پہنچنے چاہئیں، وہ جنوری میں پہنچیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ یونین، انتظامیہ اور حکومت درست سمت میں بڑھ رہے ہیں، مگر کینیڈا پوسٹ اب بھی چھوٹے کاروباروں کا اعتماد کھونے کے خطرے سے دوچار ہے۔ کینیڈین فیڈریشن آف انڈیپنڈنٹ بزنس کے صدر ڈین کیلی کے مطابق گزشتہ سال کے ڈیٹا سے ظاہر ہوا کہ اگر ایک اور طویل ہڑتال ہوئی تو دو تہائی چھوٹے کاروبار دوبارہ کینیڈا پوسٹ کی خدمات استعمال نہیں کریں گے۔
کینیڈا پوسٹ کو مالی بحران کا بھی سامنا ہے۔ جمعے کو کمپنی نے اپنی تاریخ کے سب سے بڑے سہ ماہی خسارے کا اعلان کیا۔ سال کے آغاز میں ایک ارب ڈالر کا وفاقی قرض حاصل کرنے کے باوجود، ادارے کا کہنا ہے کہ اسے اگلے ایک یا دو ماہ میں مزید سرکاری امداد کی ضرورت ہو گی کیونکہ اس کے مالی نقصانات مسلسل بڑھ رہے ہیں۔ کیلی کا کہنا ہے کہ اگر کینیڈا پوسٹ یونین کے ساتھ ایسا ماڈل تیار کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہے جو اخراجات کم کرے اور بہتر ڈلیوری خدمات فراہم کرے تو پھر بھی اس کا کردار برقرار رہ سکتا ہے۔