اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیو ز) برطانوی حکومت نے ملک بھر میں کم از کم اجرت میں نمایاں اضافے کا اعلان کردیا ہے
جو آئندہ برس اپریل 2026 سے نافذ العمل ہوگا۔ حکومت کے اس فیصلے کا مقصد بڑھتی ہوئی مہنگائی، روزمرہ اخراجات اور ورکنگ کلاس کی مالی مشکلات میں کمی لانا ہے۔ حکام کے مطابق اس اقدام سے ملک بھر کے لاکھوں ورکرز کو فائدہ پہنچے گا۔برطانوی میڈیا کے مطابق حکومت نے مختلف عمر کے کارکنوں کے لیے تنخواہوں میں الگ الگ شرح سے اضافہ کیا ہے 21 سال سے زائد عمر کے ورکر کے لیے کم از کم تنخواہ میں 4.1 فیصد اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد انہیں 12.71 پاؤنڈ فی گھنٹہ ادائیگی کی جائے گی۔ یہ اضافہ برطانیہ کے لیبر مارکیٹ کے اُس طبقے کے لیے انتہائی اہم سمجھا جا رہا ہے جو مہنگائی اور بڑھتے ہوئے یوٹیلیٹی بلز کے باعث شدید مالی دباؤ کا شکار تھا۔
اسی طرح 18 سے 20 سال کے کارکنوں کی کم از کم اجرت میں 8.5 فیصد کا نمایاں اضافہ** کیا گیا ہے، جس سے ان کی فی گھنٹہ تنخواہ بڑھ کر 10.85 پاؤنڈ ہوجائے گی۔ یہ گروپ عموماً جز وقتی ملازمتوں میں شامل ہوتا ہے اور اکثر تعلیم کے ساتھ ساتھ کام بھی کرتا ہے، لہٰذا اضافہ ان کے لیے بڑی سہولت ثابت ہوگا۔
حکومت نے 16 اور 17 سال کے نوجوان ورکرز کے لیے بھی تنخواہ میں 6 فیصد اضافہ منظور کیا ہے، جس کے بعد ان کی نئی اجرت 8 پاؤنڈ فی گھنٹہ مقرر ہوگی۔ تجزیہ کاروں کے مطابق نوجوان کارکنوں کی تنخواہ میں یہ اضافہ انہیں لیبر مارکیٹ میں داخل ہونے کی مزید ترغیب دے گا۔برطانوی چانسلر نے بیان میں کہا کہ ’’میں جانتی ہوں کہ روز مرہ کے اخراجات کام کرنے والے افراد کے لیے سب سے بڑا مسئلہ ہیں۔ بہت سے لوگ اب بھی گزارا کرنے میں مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں، اسی لیے یہ تبدیلی ناگزیر تھی۔حکومتی اعداد و شمار کے مطابق یہ فیصلہ براہِ راست لاکھوں افراد کی مالی صورتحال میں بہتری لائے گا اور مجموعی معاشی سرگرمیوں کو بھی تقویت دے گا۔