اردوورلڈکینیڈا( ویب نیوز)کیلگری بورڈ آف ایجوکیشن (CBE) نے جان ویئر جونیئر ہائی اسکول میں سابقہ اساتذہ کی جانب سے 1988 سے 2004 تک مبینہ جنسی اور جسمانی زیادتی کے کیس میں 15.77 ملین ڈالر کے اجتماعی مقدمے (کلاس ایکشن) کا تصفیہ کر لیا ہے۔
بدھ کو اعلان کردہ یہ معاہدہ عدالت کی منظوری سے مشروط ہے۔ اس کے تحت یہ دعوے نمٹائے گئے ہیں جو سابق طلبہ نے CBE، سابق استاد مائیکل گریگوری کی جائیداد اور ریٹائرڈ استاد فریڈ آرچر کے خلاف کیے تھے۔
مدعیوں میں مرد و خواتین دونوں شامل تھے، جو اس وقت 12 سے 14 سال کی عمر کے تھے جب مبینہ طور پر ان کے ساتھ زیادتی کا سلسلہ شروع ہوا۔ یہ مقدمہ جنوری میں ایک جج نے باقاعدہ طور پر منظور کیا تھا۔
CBE نے اپنے بیان میں کلاس ممبران کو درپیش تکلیف پر معذرت کی اور ان کے ذہنی و جذباتی اثرات کو تسلیم کیابیان میں کہا گیاسی بی ای اُن تمام کلاس ممبران کی ہمت اور مضبوطی کو سراہتا ہے جنہوں نے آگے بڑھ کر اپنے تجربات شیئر کیے اور عدالتی کارروائی میں حصہ لیا۔
مقدمے میں الزام لگایا گیا کہ CBE محفوظ ماحول فراہم کرنے میں ناکام رہا، مشتبہ بدسلوکی کی رپورٹ نہ کی، اور اسکول کے عملے کو کی جانے والی متعدد شکایات کا مناسب جواب نہ دیا۔
مدعیوں کے وکیل ڈیو کورِیگن کا کہنا تھابچوں کے ساتھ جنسی زیادتی حقیقت میں لوگوں کی توقع سے کہیں زیادہ عام ہے۔ شرمندگی یا خوف کی وجہ سے بہت سے لوگ مدد نہیں لیتے۔
مائیکل گریگوری، جو 1988 سے 2006 تک فزیکل اور آؤٹ ڈور ایجوکیشن کے استاد تھے، پر الزام تھا کہ انہوں نے طالبات کو جنسی طور پر اور طلبہ کو جسمانی طور پر نشانہ بنایا۔ 2006 میں ان پر تحقیقات ہوئیں، انہیں معطل کیا گیا، بعد میں ان پر متعدد جنسی جرائم کے الزامات لگے، اور اسی دوران انہوں نے خودکشی کر لی۔
فریڈ آرچر، جو 1990 کی دہائی میں گریگوری کے ساتھی تھے، پر الزام ہے کہ انہوں نے طالب علموں کے ساتھ جنسی اور جسمانی زیادتی کی۔ رواں سال ان پر جان ویئر اسکول میں 1990 کی دہائی سے متعلق جنسی حملوں کے مقدمات بھی عائد کیے گئے۔
کورِیگن کے مطابق آرچر پر 1980 کی دہائی میں اسپرنگ بینک مڈل اسکول میں زیرِ تعلیم بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے الزامات میں فردِ جرم عائد ہوئی اور وہ مجرم بھی قرار پائے، جو جان ویئر میں ملازمت سے پہلے کی بات ہے۔
CBE کا کہنا ہے کہ بہت سے متاثرین نے اس بات کا عزم ظاہر کیا ہے کہ وہ آئندہ نسلوں کو ایسی ہمتناک واقعات سے بچانے کے لیے اپنی وکالت اور آگاہی مہمات جاری رکھیں گے۔