اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مقبولیت اپنی دوسری مدتِ صدارت کے صرف دس ماہ بعد ہی ریکارڈ حد تک گر کر 36 فیصد پر آ گئی ہے۔
جو نہ صرف ان کی موجودہ مدت کی سب سے کم سطح ہے بلکہ 2021ء میں عہدہ چھوڑنے کے بعد سے اب تک کی بھی کم ترین مقبولیت ہے۔ گیلپ سروے کے مطابق ریپبلکنز کی حالیہ الیکشن میں شکست اور حکومتی شٹ ڈاؤن نے ٹرمپ کی عوامی حمایت کو شدید متاثر کیا ہے۔ سروے بتاتا ہے کہ 60 فیصد امریکی عوام نے جنوری میں ٹرمپ کی وائٹ ہاؤس واپسی کے بعد ان کی کارکردگی کو نامناسب قرار دیا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ عوامی اعتماد میں کمی مسلسل جاری ہے۔ اگرچہ ڈیموکریٹس کی بڑی تعداد پہلے ہی ٹرمپ کی پالیسیوں کی مخالف ہے، لیکن تشویش ناک بات یہ ہے کہ اس مرتبہ ریپبلکنز اور آزاد ووٹرز میں بھی ان کی مقبولیت نمایاں طور پر کم ہوئی ہے؛ ریپبلکنز کی حمایت 7 پوائنٹ گر کر 84 فیصد پر آ گئی جبکہ آزاد ووٹرز میں ان کی مقبولیت 33 سے کم ہو کر محض 25 فیصد رہ گئی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ معاشرتی و معاشی عدم استحکام کے باوجود ٹرمپ کی جرائم سے متعلق پالیسی کو 43 فیصد، خارجہ پالیسی کو 41 فیصد اور تجارتی پالیسی کو 39 فیصد عوام نے مثبت قرار دیا۔ مجموعی طور پر دیکھا جائے تو گیلپ سروے کے نتائج ٹرمپ انتظامیہ کے لیے ایک بڑے سیاسی چیلنج کی نشاندہی کرتے ہیں، کیونکہ کم ہوتی حمایت نہ صرف ان کی حکمرانی کو متاثر کر سکتی ہے بلکہ آئندہ انتخابات میں ان کے سیاسی مستقبل پر بھی گہرا اثر ڈال سکتی ہے۔