اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) جدید دور میں صحت مند زندگی اور شوگر فری مصنوعات کے استعمال کا رجحان بڑھ رہا ہے
مگر تازہ تحقیق نے خبردار کیا ہے کہ ایک عام مصنوعی مٹھاس — سوربیٹل — جگر کی مہلک بیماریوں کا باعث بن سکتی ہے۔ یہ تحقیق نہ صرف ہماری خوراک کے انتخاب پر روشنی ڈالتی ہے بلکہ مصنوعی مٹھاس کے استعمال میں احتیاط کی ضرورت کو بھی واضح کرتی ہے۔
سوربیٹل سے جگر میں خطرناک حد تک چکنائی جمع ہو سکتی ہے، جو میٹابولک ڈِس فنکشن-ایسوسی ایٹڈ اسٹیئٹوٹک لیور ڈیزیز (MASLD) کا سبب بنتی ہے۔ یہ مرض نان-الکوحلک فیٹی لیور ڈیزیز کے نام سے بھی جانا جاتا ہے اور شراب نوشی سے بالکل غیر متعلق ہے، یعنی صحت مند طرزِ زندگی اختیار کرنے والے افراد بھی اس خطرے سے محفوظ نہیں۔
تحقیق میں زیبرا فش کے پیٹ کے مائیکرو بائیوم کا معائنہ کیا گیا، جس سے معلوم ہوا کہ مائیکرو بائیوم میں کمی یا خلل جگر کی بیماری میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ مائیکرو بائیوم میں موجود مفید بیکٹیریا سوربیٹل کو تحلیل کرتے ہیں اور جگر کو اس کے نقصان سے بچاتے ہیں، مگر جب یہ توازن متاثر ہوتا ہے تو جگر میں چکنائی جمع ہونا شروع ہو جاتی ہے۔
یہ نتائج ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ مصنوعی مٹھاس کو محض ایک "صحت مند متبادل” سمجھنا خطرناک ہو سکتا ہے۔ صحت مند زندگی کے لیے صرف کم کیلوری والی یا شوگر فری مصنوعات پر انحصار کافی نہیں، بلکہ متوازن خوراک، قدرتی اجزاء، اور جگر کی صحت کے لیے شعوری اقدامات بھی لازمی ہیں۔