اردوورلڈکینیڈا( ویب نیوز)ایکسون ویلڈیز کا تیل رساؤ ہوئے 36 سال سے زیادہ گزر چکے ہیں، مگر اس کا خوفناک اثر آج بھی الاسکا اور کینیڈا کے شمالی ساحل کی پالیسیوں پر چھایا ہوا ہے۔ ماہر ماحولیات اور سابق یونیورسٹی پروفیسر رِک اسٹائنر جو اس حادثے کے اولین گواہوں میں شامل تھے کا کہنا ہے کہ اگرچہ تیل کی صنعت نے حفاظتی اقدامات میں بہتری کی ہے، لیکن ایک اور بڑے حادثے کے امکان کو مکمل طور پر ختم نہیں کیا جا سکتا۔
اسٹائنر اور کئی مقامی اقوام نے ایکسون ویلڈیز کے ساتھ ساتھ 2016 میں بی سی کے ساحل پر ڈوبنے والی نیتهن ای اسٹورٹ ٹگ بوٹ کے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ اگر شمالی برٹش کولمبیا کے ساحل تک پائپ لائن لائی گئی تو ٹینکر ٹریفک میں اضافے سے تباہ کن نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔ رواں ماہ بیلا بیلا کے قریب کنٹینر بارج کا پھنس جانا بھی اسی خطرے کی ایک تازہ مثال بتایا جا رہا ہے۔
ایکسون ویلڈیز ایک مستقل زخم
24 مارچ 1989 کو رات گئے ایک 300 میٹر طویل سپر ٹینکر الاسکا کے ساحل پر چٹان سے ٹکرا گیا، جس کے نتیجے میں اندازاً 260,000 سے 760,000 بیرل خام تیل سمندر میں پھیل گیا۔ تیل سے لتھڑے پرندوں اور کالے پڑے ساحلوں کی دردناک تصاویر دنیا بھر میں پھیل گئیں۔
اسٹائنر کا کہنا ہے کہ پرنس ولیم ساؤنڈ کی مکمل ماحولیاتی بحالی آج تک ممکن نہیں ہو سکی۔ ان کے مطابق، "یہ حادثہ ایک سخت سبق ہے — اور ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ تیل کے رساؤ کا خطرہ کبھی صفر نہیں ہوتا۔”
نئی پائپ لائن پر شدید اعتراضات
کینیڈا کی وفاقی حکومت اور البرٹا نے حال ہی میں شمالی پائپ لائن کی سمت بڑھنے کا معاہدہ کیا ہے، جس پر ساحلی فرسٹ نیشنز نے واضح جواب دیا:
یہ کبھی نہیں ہوگا۔
مقامی اقوام نے زور دیا کہ ٹینکر پابندی لازمی ہے اور اس میں کوئی نرمی قبول نہیں۔ہیلتسک نیشن نے کہا کہ وہ آج تک 2016 کے صرف 110,000 لیٹر ڈیزل کے رساؤ کے اثرات سے باہر نہیں نکل سکے۔ ان کے مطابق، ’’اگر 700 بیرل سے کم کے حادثے نے 1,500 ایکڑ علاقے کو آلودہ کیا، تو دو ملین بیرل تیل لے جانے والے سپر ٹینکرز کا تصور بھی ناقابل قبول ہے۔
انڈسٹری کے دلائل اور ماہرین کی تشویش
جہاں کچھ صنعتیں ٹینکر پابندی کو غیر ضروری قرار دیتی ہیں اور حفاظتی ٹیکنالوجی میں بہتری کا حوالہ دیتی ہیں، وہیں اسٹائنر کہتے ہیں کہ ڈبل ہلڈ ٹینکرز، ٹگ بوٹس اور جدید نگرانی کے باوجود بڑا حادثہ پھر بھی ہو سکتا ہے۔ان کے مطابق شمالی بی سی تک پائپ لائن لے جانا اور وہاں سے تیل ایشیا بھیجنا انتہائی خطرناک خیال ہے۔ یہ منصوبہ کبھی حقیقت نہیں بننا چاہیے۔”
عوامی رائے اور میڈیا کا کردار
یونیورسٹی آف برٹش کولمبیا کے پروفیسر ڈیوڈ ٹِنڈل کے مطابق، ایکسون ویلڈیز کی تصاویر شمالی امریکا کی یادداشت کا حصہ بن چکی ہیں اور جب بھی ٹینکر کے خطرات کی بات ہوتی ہے، تیل سے لتھڑے پرندے ذہن میں آ جاتے ہیں — جو کسی بھی تکنیکی بحث سے زیادہ اثر رکھتے ہیں۔وہ کہتے ہیں اگر سماجی دباؤ یا میڈیا مہم کارگر ہو تو گروپس اسی راستے کا انتخاب کریں گے، ورنہ وہ عدالتی کارروائی یا مالیاتی دلائل کے ذریعے مزاحمت کریں گے۔”