اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) واشنگٹن میں امریکی انتظامیہ کے اندر اس وقت ایک اہم اور حساس مسئلے پر شدید بحث جاری ہے،
جس کا تعلق امریکا میں مقیم تقریباً 2 لاکھ افغان پناہ گزینوں کے مستقبل سے ہے۔ امریکی محکمہ جنگ کے سینئر مشیر سٹورٹ شیلر نے انکشاف کیا ہے کہ وائٹ ہاؤس میں ان افغان شہریوں کی ممکنہ ملک بدری کے حوالے سے غور و فکر کیا جا رہا ہے، تاہم اس سلسلے میں کوئی سرکاری حکم ابھی تک جاری نہیں ہوا۔سٹورٹ شیلر کے مطابق 2021 میں افغانستان سے امریکی انخلا کے دوران بڑی تعداد میں افغان شہری امریکا پہنچے تھے، اور یہ تعداد اب تقریباً 2 لاکھ تک پہنچ چکی ہے۔ انہوں نے سابق امریکی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت کے حکمرانوں نے حفاظتی خدشات کے باوجود ’’دشمنوں کو ملک میں داخل ہونے کی اجازت دی‘‘، جو ان کے بقول ایک سنگین غلطی تھی۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ حالیہ دنوں میں پیش آنے والے نیشنل گارڈ اہلکار کے قتل کے واقعے نے سکیورٹی اداروں کو مزید تشویش میں مبتلا کر دیا ہے، اور کچھ حلقے افغان پناہ گزینوں کی موجودگی کو اس صورتحال سے جوڑ رہے ہیں۔ تاہم، شیلر کا کہنا ہے کہ ابھی تک کسی سطح پر ملک بدری کا باضابطہ فیصلہ نہیں لیا گیا اور نہ ہی کوئی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔ یہ معاملہ اس وقت بھی حکومتی مشاورت اور پالیسی مباحثے کا حصہ ہے۔امریکی حلقوں میں اس موضوع پر شدید اختلاف پایا جاتا ہے۔ ایک طرف کچھ افراد سکیورٹی خدشات کا حوالہ دے کر افغانوں کی وطن واپسی کے حق میں ہیں، جبکہ دوسری جانب انسانی حقوق کے کارکن اور مہاجرین کی بہبود کے ادارے اسے غیر انسانی اقدام قرار دے رہے ہیں۔ وائٹ ہاؤس پر دباؤ بڑھتا جا رہا ہے کہ وہ اس حوالے سے واضح مؤقف اختیار کرے۔