اردوورلڈکینیڈا( ویب نیوز)پی ٹی آئی کے سینئر رہنما قاضی انور ایڈووکیٹ نے اپنی پارٹی رکنیت اور تمام عہدوں سے استعفیٰ تحریری طور پر پارٹی قیادت کو بھیج دیا ہے۔ استعفیٰ سیکرٹری جنرل پی ٹی آئی اور چیف آرگنائزر آئی ایل ایف کو بھیجا گیا، جس میں انہوں نے کہا کہ وہ پارٹی کے تمام عہدوں اور رکنیت سے مستعفی ہو رہے ہیں۔
قاضی انور نے اپنے استعفیٰ میں بتایا کہ پاکستان بار کونسل کے انتخابات میں انہیں خیبر پختونخوا سے پی ٹی آئی کا امیدوار نامزد کیا گیا تھا، اور بیرسٹر گوہر نے بطور قائم مقام چیئرمین ان کی نامزدگی کی تصدیق کی۔ تاہم، سلمان اکرم راجہ اور حامد خان نے ایک تحریری حکم جاری کر کے غیر متعلقہ افراد عبد الستار اور قاضی ارشد کو امیدوار نمبر ایک اور دو کے طور پر نامزد کیا اور انہیں جان بوجھ کر تیسرے نمبر پر رکھا گیا۔ اس فیصلے کے نتیجے میں دونوں غیر متعلقہ امیدوار کامیاب ہوئے اور قاضی انور ناکام رہ گئے۔
استعفیٰ میں قاضی انور نے مزید کہا کہ پارٹی قیادت، بشمول علیمہ خان، نے ان غیر متعلقہ نامزدگیوں کی توثیق کی اور وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے ذریعے اس پر عمل درآمد کروایا گیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ علی زمان نے ان کے خلاف منفی پروپیگنڈا شروع کیا اور ان کے ساتھ بدسلوکی کی گئی، جس نے ان کی صحت پر منفی اثر ڈالا۔
قاضی انور نے اپنی پارٹی خدمات کا بھی ذکر کیا، کہا کہ انہوں نے خیبر پختونخوا میں آئی ایل ایف کی تنظیم کو منظم کیا، مختلف محکموں میں 200 سے زائد اسامیوں کو آئی ایل ایف کے اراکین کے لیے فراہم کیا اور بانی پی ٹی آئی کا پیغام صوبے کے ہر کونے تک پہنچانے کی کوشش کی۔ انہوں نے واضح کیا کہ وہ کسی بھی طرح صوبائی حکومت یا آئی ایل ایف کے فنڈز سے فائدہ نہیں اٹھاتے۔
آخر میں انہوں نے کہا کہ پارٹی میں ان کے ساتھ کیے جانے والے سلوک اور بے عزتی ناقابل برداشت ہو گئی، جس کی وجہ سے وہ اپنی رکنیت اور تمام عہدوں سے مستعفی ہو رہے ہیں۔