65
اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) ہالی ووڈ کے قدیم اور بڑے فلمی اداروں میں شمار ہونے والے وارنر برادرز ڈسکوری نے
اپنے شیئر ہولڈرز سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ پیرا ماؤنٹ اسکا ئی ڈانس کی جانب سے دی جانے والی خریداری کی پیشکش کو مسترد کر دیں، کیونکہ کمپنی کے مطابق نیٹ فلکس کے ساتھ مجوزہ معاہدہ صارفین، تخلیقی صنعت اور طویل المدتی ترقی کے لیے زیادہ فائدہ مند ثابت ہوگا۔وارنر برادرز کی جانب سے بدھ کے روز سرمایہ کاروں کو بھیجے گئے بیان میں کہا گیا کہ نیٹ فلکس اور وارنر برادرز کا اشتراک صارفین کو زیادہ انتخاب اور بہتر تفریحی مواد فراہم کرے گا، جبکہ دونوں اداروں کی مشترکہ تقسیم کاری تخلیقی برادری کو دنیا بھر میں وسیع ناظرین تک پہنچنے میں مدد دے گی۔ کمپنی کے مطابق نیٹ فلکس کے ساتھ معاہدہ اس لیے کیا گیا ہے کہ اس کے پاس موجود مشہور فلمی فرنچائزز، وسیع مواد کی لائبریری اور مضبوط اسٹوڈیو صلاحیتیں وارنر برادرز کے موجودہ کاروبار کی تکمیل کریں گی، نہ کہ اس کی نقل۔
دوسری جانب پیرا ماؤنٹ اسکا ئی ڈانس نے گزشتہ ہفتے اپنی پیشکش کو جارحانہ انداز میں براہ راست شیئر ہولڈرز کے سامنے پیش کرتے ہوئے وارنر برادرز کے بورڈ کی حمایت یافتہ نیٹ فلکس ڈیل کو مسترد کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ پیرا ماؤنٹ کی پیشکش کے تحت وارنر برادرز کے ہر شیئر کے بدلے 30 امریکی ڈالر کی پیشکش کی گئی ہے، جبکہ نیٹ فلکس کی پیشکش 27 اعشاریہ 75 ڈالر فی شیئر ہے۔
وارنر برادرز نے واضح کیا ہے کہ اگرچہ پیرا ماؤنٹ کی پیشکش بورڈ کی ترجیح نہیں، تاہم حتمی فیصلہ شیئر ہولڈرز کے ہاتھ میں ہے، جو چاہیں تو پیرا ماؤنٹ کی پیشکش قبول کر سکتے ہیں۔ پیرا ماؤنٹ کی بولی کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں وارنر برادرز کے کیبل نیٹ ورکس، بشمول سی این این اور ڈسکوری، بھی شامل ہیں، جبکہ نیٹ فلکس کی پیشکش میں کیبل کاروبار شامل نہیں، کیونکہ وارنر برادرز پہلے ہی اپنے کیبل آپریشنز کو الگ کرنے کے عمل میں ہے۔
پیرا ماؤنٹ کے چیف ایگزیکٹو ڈیوڈ ایلیسن نے بدھ کے روز ایک بیان میں کہا کہ انہیں شیئر ہولڈرز کی جانب سے مثبت ردعمل ملا ہے اور وہ اس معاہدے کو صارفین، سرمایہ کاروں اور تخلیقی صنعت کے بہترین مفاد میں قرار دیتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پیرا ماؤنٹ اپنی پیشکش کو آگے بڑھانے کے لیے پُرعزم ہے۔
دونوں ممکنہ معاہدوں کو ریگولیٹری اداروں کی سخت جانچ کا سامنا بھی کرنا ہوگا، کیونکہ وارنر برادرز کی ملکیت میں تبدیلی سے عالمی تفریحی صنعت، اسٹریمنگ پلیٹ فارمز، فلم سازی اور میڈیا کے ڈھانچے پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ نیٹ فلکس اور وارنر برادرز کے انضمام سے مارکیٹ میں حد سے زیادہ غلبہ پیدا ہو سکتا ہے، جبکہ پیرا ماؤنٹ پلس کا دائرہ اس کے مقابلے میں خاصا محدود ہے۔
سیاسی پہلو بھی اس معاملے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پہلے ہی اس سودے پر رائے دے چکے ہیں اور نیٹ فلکس کے ممکنہ غلبے کو مسئلہ قرار دے چکے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ پیرا ماؤنٹ کے چیف ایگزیکٹو ڈیوڈ ایلیسن، اوریکل کے بانی لیری ایلیسن کے صاحبزادے ہیں، جن کے صدر ٹرمپ سے قریبی تعلقات بتائے جاتے ہیں۔ تاہم حالیہ دنوں میں جیرڈ کشنر کی سرمایہ کاری کمپنی نے پیرا ماؤنٹ کی بولی سے دستبردار ہونے کا اعلان کر دیا ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ بولی جنگ صرف کاروباری نہیں بلکہ سیاسی، قانونی اور میڈیا آزادی سے جڑے سوالات بھی جنم دے رہی ہے، جس کا فیصلہ آنے والے مہینوں میں عالمی میڈیا کے مستقبل پر اثرانداز ہو سکتا ہے۔