اردوورلڈکینیڈا( ویب نیوز)ایک حالیہ لیجر (Leger) سروے کے مطابق تقریباً ایک تہائی کینیڈین 2026 کے حوالے سے پُرامید ہیں، تو سوال یہ ہے کہ کیلگری کے شہری کیسا محسوس کر رہے ہیں؟سروے کے مطابق 2025 کا سال معاشی دباؤ، عالمی تنازعات اور موسمیاتی آفات سے عبارت رہا، اور بہت سے کینیڈین یہ نہیں سمجھتے کہ 2026 اس سے کہیں بہتر ہوگا۔
سروے میں شامل 37 فیصد افراد کا خیال ہے کہ حالات ویسے ہی رہیں گے، جبکہ تقریباً پانچواں حصہ یعنی 20 فیصد کے قریب افراد کا ماننا ہے کہ 2026 مزید خراب ہوگا۔
جب لوگوں سے کہا گیا کہ وہ فہرست میں سے ایسے الفاظ منتخب کریں جو 2025 کو بہتر طور پر بیان کریں، تو 40 فیصد نے “غیریقینی” (uncertain)، 37 فیصد نے “ہنگامہ خیز” (turbulent) اور 31 فیصد نے “تھکا دینے والا” (exhausting) کہاتاہم، سروے یہ بھی ظاہر کرتا ہے کہ تقریباً 35 فیصد کینیڈین نئے سال کے حوالے سے زیادہ پُرامید ہیں۔
تو کیلگری کے شہری کیا سوچتے ہیں کیلگری کے رہائشی ہارلو پیٹرک کا کہنا ہے،یہ ایک اچھا سال تھا، لیکن غیر متوقع بھی تھا۔ بہت سی چیزیں ہوئیں، اچھی بھی اور بری بھی، مگر یہ ماضی کے کچھ سالوں سے بہتر رہا ہے۔”
ایک اور رہائشی، دیپیندرا سیتوالا، کہتے ہیں،میں کہوں گا کہ 2025 ملا جلا سال رہا۔ ایمانداری سے کہوں تو یہ ایک رولر کوسٹر جیسا تھا۔ ٹرمپ ٹیرف کے کینیڈینز پر اثرات سے لے کر مہنگائی تک، سب سے بڑا مسئلہ مجھے مہنگائی ہی لگا۔
اس سال بہت سے کینیڈینز کے لیے ایک اہم مسئلہ نئی امریکی انتظامیہ کے ساتھ کشیدگی رہا، خاص طور پر 51ویں ریاست کے طعنے اور تجارتی مذاکرات، جنہوں نے مہنگائی اور اخراجاتِ زندگی کو متاثر کیا۔
لیجر کے ایگزیکٹو نائب صدر اینڈریو اینس کہتے ہیںہم نے اخراجات میں کچھ حد تک ریلیف دیکھا، لیکن بہت سے کینیڈینز کے لیے یہ ناکافی تھا۔ مہنگائی کا دباؤ مسلسل رہا، خاص طور پر گروسری بلز میں، اور یہ واقعی مشکل رہا ہے۔”
انہوں نے مزید کہاملک کے کچھ حصوں میں، جن میں کیلگری بھی شامل ہے، ہاؤسنگ افورڈیبیلٹی ایک بڑا مسئلہ بن چکا ہے۔”
اینڈریو اینس کے مطابق 18 سے 34 سال کی عمر کے نوجوان مستقبل کے حوالے سے زیادہ پُرامید ہیں، جبکہ بڑی عمر کے افراد زیادہ محتاط اور نپے تلے خیالات رکھتے ہیں۔
یہ شاید نوجوانی کی امید ہے۔ ممکن ہے وہ یونیورسٹی سے نکل کر کیریئر کے حوالے سے اچھے امکانات دیکھ رہے ہوں، اس لیے گلاس انہیں آدھا بھرا ہوا نظر آتا ہے۔ دوسری طرف، 55 سال سے زائد عمر کے افراد زیادہ محتاط ہوتے ہیں،” انہوں نے کہاکیلگری کے رہائشی جیک پاسٹُسزکو کہتے ہیں کہ عمر کے ساتھ شعور اور سمجھ میں اضافہ ہوتا ہے، مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ انسان امید چھوڑ دے۔
“جیسے جیسے آپ بڑے ہوتے ہیں، آپ زیادہ سمجھدار ہو جاتے ہیں اور زیادہ نپ تول کر سوچتے ہیں، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ آپ خوفزدہ اور حد سے زیادہ محتاط ہو جائیں۔ اگر ایسا ہو جائے تو آپ امکانات کے بارے میں سوچنا چھوڑ دیتے ہیں، اور اس کے ساتھ امید بھی ختم ہو جاتی ہے۔ اور اگر امید ہی نہ ہو تو جینے کا کوئی فائدہ نہیں رہتا۔”بارب پاسٹُسزکو کا کہنا ہے،اس وقت، اس دنیا میں ہمیں امید کی اشد ضرورت ہے۔”
سروے سے یہ بھی پتا چلا کہ وبا کے برسوں کے مقابلے میں کینیڈینز کی ذہنی صحت میں نمایاں بہتری آئی ہے، جہاں 86 فیصد افراد نے اپنی ذہنی صحت کو مثبت قرار دیا۔
دسمبر میں آن لائن کیے گئے اس سروے کے مطابق، اگرچہ ایک تہائی افراد کا ماننا ہے کہ 2026 بہتر ہوگا، لیکن 22 فیصد سمجھتے ہیں کہ نیا سال مزید خراب ثابت ہوگا۔