اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) ایران میں بڑھتی ہوئی مہنگائی، معاشی بدحالی اور روزمرہ اخراجات میں بے تحاشا اضافے کیخلاف احتجاج
احتجاجی مظاہروں نے خطرناک رخ اختیار کر لیا ہے۔ مختلف شہروں میں سکیورٹی فورسز اور مظاہرین کے درمیان ہونے والی جھڑپوں کے نتیجے میں کم از کم چھ افراد جان کی بازی ہا ر گئے ، جن میں ایک سکیورٹی اہلکار بھی شامل ہے۔ یہ حالیہ احتجاجی لہر کے دوران پہلی بار ہے کہ صورتحال اس حد تک سنگین ہو گئی ہے۔
غیر ملکی خبر رساں اداروں کے مطابق مغربی ایران کے متعدد شہروں میں مظاہرین اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان تصادم ہوا۔ نیم سرکاری ایرانی میڈیا کا کہنا ہے کہ صوبہ چهارمحال و بختیاری کے شہر لردگان میں دو شہری سکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپوں کے دوران جان سے گئے، جبکہ متعدد افراد زخمی بھی ہوئے۔ حکام کے مطابق مظاہرین نے سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی، جس کے بعد سکیورٹی فورسز نے کارروائی کی۔
سرکاری میڈیا کی رپورٹس کے مطابق صوبہ لورستان کے شہر کوہدشت میں بسیج فورس کا 21 سالہ اہلکار ہلاک ہوا، جسے حکام نے مظاہرین کی جانب سے پتھراؤ کا نشانہ بننے کے بعد جاں بحق ہونے والا قرار دیا ہے۔ حکومتی مؤقف ہے کہ سکیورٹی اہلکار امن و امان برقرار رکھنے کی کوشش کر رہے تھے، تاہم حالات قابو سے باہر ہو گئے۔
دوسری جانب ایران میں سرگرم انسانی حقوق کی تنظیم ہینگاؤ نے سرکاری مؤقف کو چیلنج کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ لردگان میں سکیورٹی فورسز کی فائرنگ کے نتیجے میں کئی شہری ہلاک اور زخمی ہوئے، جبکہ کوہدشت میں مرنے والا شخص ایک نوجوان مظاہرہ کرنے والا تھا۔ انسانی حقوق کے اداروں کے مطابق زمینی حقائق سرکاری بیانیے سے مختلف ہو سکتے ہیں، تاہم ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے تصدیق ممکن نہیں ہو سکی۔
یہ احتجاجی مظاہرے اتوار کے روز دارالحکومت تہران میں تاجروں کی ہڑتال سے شروع ہوئے، جہاں دکانداروں نے مہنگائی، معاشی جمود اور کرنسی کی مسلسل گرتی ہوئی قدر کے خلاف آواز بلند کی۔ چند ہی دنوں میں یہ مظاہرے ملک کے دیگر بڑے شہروں تک پھیل گئے، جبکہ کم از کم دس جامعات کے طلبہ بھی احتجاج میں شامل ہو گئے، جس سے حکومت پر دباؤ میں مزید اضافہ ہوا۔
ایران اس وقت شدید معاشی بحران کا شکار ہے۔ مغربی پابندیوں، تیل کی برآمدات میں کمی اور غیر یقینی سیاسی صورتحال نے معیشت کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ گزشتہ ایک سال کے دوران ایرانی ریال امریکی ڈالر کے مقابلے میں ایک تہائی سے زیادہ قدر کھو چکا ہے، جس کے باعث اشیائے ضروریہ عوام کی پہنچ سے باہر ہوتی جا رہی ہیں۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق دسمبر میں مہنگائی کی شرح 52 فیصد تک پہنچ گئی، جو عوامی بے چینی کی بڑی وجہ سمجھی جا رہی ہے۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے عوامی احتجاج پر ردِعمل دیتے ہوئے اعتراف کیا ہے کہ معاشی مسائل حقیقی اور عوامی مشکلات کا سبب بن رہے ہیں۔ انہوں نے حکومتی اداروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ معاشی اصلاحات پر توجہ دیں اور عوام کو ریلیف فراہم کریں۔ تاہم سکیورٹی حکام نے واضح کیا ہے کہ اگر مظاہروں کے دوران امن و امان کو نقصان پہنچا تو سخت کارروائی کی جائے گی۔ماہرین کے مطابق اگر معاشی صورتحال میں فوری بہتری نہ آئی تو ایران میں احتجاجی لہر مزید شدت اختیار کر سکتی ہے، جو حکومت کے لیے ایک بڑا سیاسی اور سماجی چیلنج بن سکتی ہے۔