اردوورلڈکینیڈا( ویب نیوز)ملک کے بالائی علاقوں میں حالیہ برفباری کے باعث سردی کی شدت میں نمایاں اضافہ ہو گیا ہے، جبکہ حسین وادیوں پر برف کی سفید چادر بچھ جانے سے سیاحوں کی بڑی تعداد ان علاقوں کا رخ کر رہی ہے۔ ملکہ کوہسار مری میں ہونے والی برفباری نے موسم کو مزید دلکش بنا دیا، جس کے باعث سیاحوں نے خوب لطف اٹھایا اور برفباری کے مناظر کو کیمروں میں محفوظ کیا۔
گلیات کے پہاڑی سلسلے بھی برف سے ڈھک گئے ہیں، جس سے پورا علاقہ ایک خوبصورت منظر پیش کر رہا ہے۔ خیبر پختونخوا اور گلگت بلتستان کے مختلف علاقوں میں شدید برفباری ریکارڈ کی گئی ہے۔ لواری ٹنل میں ڈیڑھ سے دو فٹ تک برف جم چکی ہے، جس سے آمدورفت میں مشکلات پیدا ہو رہی ہیں۔ چترال میں 28 انچ تک برفباری ریکارڈ کی گئی، جبکہ استور کے کئی علاقوں میں دو فٹ تک برف پڑنے سے معمولاتِ زندگی متاثر ہوئے ہیں۔ چلاس اور اپر دیر کے پہاڑوں پر بھی ہر طرف سفیدی چھا گئی ہے۔
ضلع بٹگرام میں مسلسل برفباری کے باعث مختلف دیہات کو ملانے والی رابطہ سڑکیں بند ہو گئی ہیں، جس سے مقامی آبادی کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ آزاد کشمیر کی وادی نیلم میں تیسرے روز بھی برفباری کا سلسلہ جاری رہا۔ اڑنگ کیل چیئر لفٹ پر سیاحوں کا رش بڑھ گیا، تاہم شدید برفباری کے باعث کئی سیاحتی مقامات کی سڑکیں بند ہونے سے مشکلات بھی سامنے آئیں۔
دوسری جانب مظفرآباد اور اس کے گردونواح میں ہلکی بوندا باندی ریکارڈ کی گئی۔ بلوچستان میں بھی سردی کی شدید لہر داخل ہو چکی ہے، جہاں زیارت میں کم سے کم درجہ حرارت منفی چار ڈگری سینٹی گریڈ تک گر گیا۔ سرد موسم کے باعث لوگ گھروں میں محدود ہو کر رہ گئے ہیں۔
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد اور راولپنڈی میں وقفے وقفے سے بارش ہوتی رہی، جس سے موسم مزید سرد ہو گیا۔ لاہور میں آسمان پر بادلوں کا راج رہا اور یخ بستہ ہواؤں نے سردی کی شدت میں اضافہ کر دیا۔ محکمہ موسمیات کے مطابق آئندہ چند روز تک سرد موسم اور بعض علاقوں میں مزید بارش اور برفباری کا امکان ہے، جس کے پیش نظر شہریوں اور سیاحوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔