اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) ایران میں کرنسی کی قدر میں شدید گراوٹ اور بڑھتی ہوئی مہنگائی کے خلاف شروع ہونے والے عوامی مظاہرے چھٹے روز میں داخل
جبکہ ملک بھر میں صورتحال مسلسل کشیدہ ہوتی جا رہی ہے۔ دارالحکومت تہران سمیت مختلف شہروں میں احتجاج کا سلسلہ بدستور جاری ہے اور کئی علاقوں میں حالات اس حد تک بگڑ چکے ہیں کہ حکومت کو تعلیمی ادارے اور سرکاری دفاتر بند کرنے پڑے ہیں۔ عوام کی بڑی تعداد سڑکوں پر نکل آئی ہے اور وہ حکومت کی معاشی پالیسیوں کے خلاف شدید نعرے بازی کر رہی ہے۔
یہ احتجاج ابتدا میں دکانداروں اور تاجروں کی جانب سے شروع کیا گیا تھا، جو ڈالر کے مقابلے میں ایرانی کرنسی ریال کی بے تحاشا گرتی ہوئی قدر پر شدید غصے کا اظہار کر رہے تھے۔ چند ہی دنوں میں یہ مظاہرے پھیلتے چلے گئے اور اب ان میں طلبہ، مزدور، سرکاری ملازمین اور عام شہری بھی بڑی تعداد میں شریک ہو چکے ہیں۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ مہنگائی نے عام آدمی کی زندگی اجیرن بنا دی ہے اور روزمرہ استعمال کی اشیا ان کی پہنچ سے باہر ہو چکی ہیں۔
مختلف شہروں میں مظاہرین اور سیکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپوں کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔ غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ان تصادموں میں اب تک کم از کم چھ مظاہرین اور ایک پولیس اہلکار ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ مظاہرین کے پتھراؤ کے نتیجے میں درجنوں پولیس اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔ تہران کے علاوہ صوبہ فارس، مرو دشت اور لردگان میں بھی شدید احتجاج ریکارڈ کیا گیا ہے، تاہم سب سے سنگین جھڑپوں کی اطلاعات صوبہ لورستان کے شہر ازنا سے موصول ہوئی ہیں، جو دارالحکومت تہران سے تقریباً تین سو کلومیٹر جنوب مغرب میں واقع ہے۔
صورتحال کی سنگینی کے پیش نظر کئی صوبوں میں اسکول، کالج، یونیورسٹیاں اور سرکاری دفاتر بند کر دیے گئے ہیں، جس کے باعث معمولاتِ زندگی بری طرح متاثر ہو رہے ہیں۔ تعلیمی سرگرمیاں معطل ہونے سے لاکھوں طلبہ متاثر ہوئے ہیں جبکہ سرکاری اداروں کی بندش سے عوامی خدمات بھی محدود ہو گئی ہیں۔ بعض علاقوں میں انٹرنیٹ اور مواصلاتی سہولیات میں رکاوٹوں کی شکایات بھی سامنے آ رہی ہیں، جسے ناقدین اطلاعات کے بہاؤ کو روکنے کی کوشش قرار دے رہے ہیں۔
عالمی نشریاتی اداروں کے مطابق حالیہ مظاہرے 2022 میں مہاسا امینی کی مبینہ دورانِ حراست موت کے بعد ہونے والے سب سے بڑے عوامی احتجاج ہیں۔ ماہرین کے مطابق اگرچہ اس وقت احتجاج کی بنیاد انسانی حقوق اور سماجی آزادیوں سے جڑی ہوئی تھی، مگر موجودہ مظاہرے بنیادی طور پر معاشی مسائل، بے روزگاری، مہنگائی اور کرنسی بحران کا نتیجہ ہیں، جو ہر طبقے کو متاثر کر رہے ہیں۔
ایران کی بگڑتی صورتحال پر عالمی ردعمل بھی سامنے آ رہا ہے۔ امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایرانی حکومت نے پرامن مظاہرین پر تشدد کیا تو امریکا ان کے تحفظ کے لیے مداخلت کر سکتا ہے۔ ان کے اس بیان نے خطے میں سیاسی کشیدگی میں مزید اضافہ کر دیا ہے اور ایران و امریکا کے تعلقات ایک بار پھر تناؤ کا شکار ہو گئے ہیں۔
امریکی دھمکی کے جواب میں ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے مشیر علی لاریجانی نے سخت ردعمل دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کے احتجاجی معاملے میں امریکی مداخلت خطے میں افراتفری پھیلانے کے مترادف ہو گی۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ایران کی سلامتی کی طرف بڑھنے والا ہر مداخلت پسند ہاتھ کاٹ دیا جائے گا اور ایران کسی بیرونی طاقت کو اپنے اندرونی معاملات میں مداخلت کی اجازت نہیں دے گا۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق ایران اس وقت ایک نہایت نازک مرحلے سے گزر رہا ہے جہاں معاشی بحران، عوامی بے چینی اور عالمی دباؤ ایک دوسرے سے جڑ چکے ہیں۔ اگر حکومت نے فوری طور پر عوام کو ریلیف دینے کے لیے مؤثر معاشی اقدامات نہ کیے تو احتجاج مزید شدت اختیار کر سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ طاقت کے ذریعے مظاہروں کو دبانا وقتی حل ہو سکتا ہے، مگر جب تک مہنگائی اور کرنسی کے بحران پر قابو نہیں پایا جاتا، عوامی غصے کو مکمل طور پر ختم کرنا مشکل ہو گا۔
مجموعی طور پر ایران میں جاری یہ مظاہرے صرف ایک احتجاج نہیں بلکہ گہرے معاشی اور سماجی بحران کی عکاسی کرتے ہیں۔ آنے والے دن اس بات کا تعین کریں گے کہ آیا ایرانی حکومت صورتحال کو بات چیت اور اصلاحات کے ذریعے سنبھال پاتی ہے یا پھر یہ بحران مزید پھیل کر ملک کے سیاسی اور معاشی مستقبل پر گہرے اثرات مرتب کرتا ہے۔