اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں انسانی بحران ایک نئے اور خطرناک مرحلے میں داخل ہو گیا ہے
جہاں اسرائیل نے متعدد بین الاقوامی غیر سرکاری تنظیموں (این جی اوز) کی سرگرمیاں معطل کرنے کا فیصلہ کر کے پہلے سے مشکلات کا شکار فلسطینی عوام کو مزید بے یار و مددگار بنا دیا ہے۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب غزہ اور دیگر فلسطینی علاقوں میں شدید سردی، خوراک، ادویات اور بنیادی سہولیات کی قلت نے انسانی المیے کو بدترین شکل دے دی ہے۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیلی حکام نے مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں کام کرنے والی کئی بین الاقوامی امدادی تنظیموں کو اپنے دفاتر بند کرنے یا سرگرمیاں محدود کرنے کے احکامات جاری کر دیے ہیں۔ ان تنظیموں کا کام زخمیوں کا علاج، بے گھر خاندانوں کو خوراک کی فراہمی، بچوں کے لیے عارضی تعلیم، اور سردی سے بچاؤ کے انتظامات شامل تھے۔ اب ان سرگرمیوں کی معطلی کے بعد لاکھوں فلسطینیوں کے لیے زندگی مزید غیر یقینی ہو گئی ہے۔
غزہ میں حالات پہلے ہی نہایت سنگین ہیں۔ اسرائیلی پابندیوں اور مسلسل ناکہ بندی کے باعث امدادی سامان کی آمد محدود ہو چکی ہے، جبکہ شدید سرد موسم نے خاص طور پر بچوں، بوڑھوں اور بیمار افراد کی مشکلات میں کئی گنا اضافہ کر دیا ہے۔ کئی خاندان ایسے ہیں جو خیموں یا تباہ شدہ عمارتوں میں رہنے پر مجبور ہیں، جہاں نہ مناسب گرم کپڑے میسر ہیں اور نہ ہی ایندھن یا بجلی۔
امدادی تنظیموں کا کہنا ہے کہ وہ نہ صرف خوراک اور ادویات فراہم کر رہی تھیں بلکہ نفسیاتی مدد، صاف پانی اور صفائی کے انتظامات بھی انہی کے ذریعے ممکن تھے۔ ان اداروں کی معطلی کا مطلب یہ ہے کہ اب یہ سہولیات بھی ختم ہونے کے خطرے سے دوچار ہیں۔ انسانی حقوق کے کارکنوں نے خبردار کیا ہے کہ یہ فیصلہ غزہ کو ایک مکمل انسانی تباہی کی طرف دھکیل سکتا ہے۔
اسرائیل کے اس اقدام پر عالمی سطح پر تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل **انتونیو گوتریس** نے اس فیصلے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسرائیل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر یہ فیصلہ واپس لے۔ ان کا کہنا ہے کہ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر کام کرنے والی تنظیموں کو روکنا بین الاقوامی قوانین اور انسانی اقدار کے منافی ہے۔
انتونیو گوتریس نے واضح کیا کہ غزہ میں پہلے ہی انسانی حالات ناقابلِ قبول حد تک خراب ہو چکے ہیں اور امدادی تنظیموں کی موجودگی زندگی اور موت کے درمیان فرق ثابت ہو سکتی ہے۔ ان کے مطابق اگر امداد کا یہ سلسلہ مکمل طور پر رک گیا تو اس کے نتائج نہایت خوفناک ہوں گے، جن کی ذمہ داری عالمی برادری پر بھی عائد ہو گی۔ادھر فلسطینی حکام اور مقامی تنظیموں نے اسرائیلی فیصلے کو اجتماعی سزا قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ اقدام صرف تنظیموں کے خلاف نہیں بلکہ براہِ راست عام شہریوں، خصوصاً بچوں اور خواتین کے خلاف ہے۔ فلسطینی ترجمانوں کے مطابق اسرائیل امداد کو بطور دباؤ استعمال کر رہا ہے، تاکہ فلسطینی عوام کو مزید کمزور کیا جا سکے۔
عینی شاہدین کے مطابق غزہ کے مختلف علاقوں میں لوگ پہلے ہی لمبی قطاروں میں خوراک اور پانی کے انتظار میں کھڑے نظر آتے ہیں۔ کئی اسپتال بنیادی ادویات کی کمی کے باعث ہنگامی حالت میں کام کر رہے ہیں، جبکہ کچھ طبی مراکز مکمل طور پر بند ہو چکے ہیں۔ ایسے میں این جی اوز کی معطلی نے امید کی آخری کرن بھی مدھم کر دی ہے۔انسانی حقوق کے عالمی اداروں نے خبردار کیا ہے کہ امدادی سرگرمیوں پر پابندی بین الاقوامی انسانی قانون کی خلاف ورزی ہو سکتی ہے۔ جنیوا کنونشن کے تحت مقبوضہ علاقوں میں شہری آبادی کو بنیادی سہولیات فراہم کرنا قابض طاقت کی ذمہ داری ہوتی ہے، مگر ناقدین کے مطابق اسرائیل اس ذمہ داری سے مسلسل پیچھے ہٹ رہا ہے۔
شدید سردی کے اس موسم میں غزہ کے بے گھر افراد کے لیے گرم کپڑوں، کمبلوں اور ہیٹنگ کے سامان کی شدید ضرورت ہے، مگر امداد کی راہ میں رکاوٹیں ان ضروریات کو خواب بناتی جا رہی ہیں۔ کئی خاندانوں نے بتایا ہے کہ وہ راتیں جاگ کر گزارنے پر مجبور ہیں، کیونکہ سردی بچوں کے لیے ناقابل برداشت ہو چکی ہے۔
عالمی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اسرائیل کا یہ فیصلہ نہ صرف انسانی بحران کو گہرا کرے گا بلکہ خطے میں کشیدگی کو بھی مزید بڑھا سکتا ہے۔ اگر عالمی برادری نے بروقت اور مؤثر ردعمل نہ دیا تو یہ اقدام مستقبل میں مزید سخت پابندیوں کی راہ ہموار کر سکتا ہے۔
مجموعی طور پر دیکھا جائے تو مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں این جی اوز کی سرگرمیوں کی معطلی محض ایک انتظامی فیصلہ نہیں بلکہ یہ لاکھوں انسانوں کی زندگیوں سے جڑا ہوا ایک سنگین انسانی مسئلہ ہے۔ سردی، بھوک، بیماری اور بے بسی کے عالم میں فلسطینی عوام کی نظریں ایک بار پھر دنیا کی طرف اٹھ گئی ہیں، یہ دیکھنے کے لیے کہ کیا عالمی ضمیر جاگتا ہے یا غزہ ایک بار پھر تنہا چھوڑ دیا جائے گا۔