اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)وزیراعظم شہباز شریف کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنااللہ نے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے ساتھ مذاکرات میں اصل رکاوٹ خود عمران خان ہیں۔ انہوں نے نجی ٹی وی سے گفتگو میں بتایا کہ وزیراعظم نے کسی بھی پیشکش سے قبل نواز شریف یا اسٹیبلشمنٹ سے رابطہ اور اعتماد میں لیا ہوگا۔
رانا ثنااللہ کے مطابق پی ٹی آئی کی دوسرے اور تیسرے درجے کی قیادت کہتی ہے کہ وہ مذاکرات کے لیے تیار ہیں، لیکن جب تک بانی پی ٹی آئی کی جانب سے ڈائیلاگ کی پالیسی واضح نہیں ہوگی، تب تک ملاقاتوں سے کوئی نتیجہ نکلنا مشکل ہے۔ بانی پی ٹی آئی نے کسی کو مذاکرات کا اختیار نہیں دیا، اور علیمہ خان نے بھی کہا ہے کہ جو لوگ مذاکرات کریں گے، وہ بانی پی ٹی آئی کی منظوری میں شامل نہیں ہیں۔
مشیر سیاسی امور نے کہا کہ پی ٹی آئی نے پہیہ جام ہڑتال کے ذریعے اپنا پیغام دیا ہے اور مذاکرات کی راہ میں رکاوٹ خود بانی پی ٹی آئی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت مذاکرات کے لیے بالکل واضح موقف رکھتی ہے، جبکہ دوسری طرف سے ابہام موجود ہے۔
سیاسی اختلافات کا واحد پائیدار حل سنجیدہ مذاکرات کے ذریعے ہی ممکن ہے،رانا ثناء اللہ
انہوں نے مزید کہا کہ بعض اوقات کہا جاتا ہے کہ مذاکرات کے لیے اجازت دی گئی ہے، لیکن اصل فیصلہ بانی پی ٹی آئی کا ہونا چاہیے۔ رانا ثنااللہ نے استفسار کیا کہ اگر پی ٹی آئی مذاکرات نہیں چاہتی تو واضح کریں کہ وہ تشدد یا احتجاج کے حق میں ہیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ بانی پی ٹی آئی کی پچھلی ملاقات سے کوئی فائدہ ہوا یا نہیں، اور کیوں نہیں بتایا گیا کہ وزیراعظم کی پیشکش موصول ہوئی ہے۔
رانا ثنااللہ نے واضح کیا کہ وزیراعظم ملاقات کے لیے تیار ہیں اور کسی شرط کے بغیر سپیکر چیمبر میں موجود ہیں، البتہ پی ٹی آئی والوں کو اجازت درکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ بجٹ منظوری کے دوران بھی مذاکرات کی بات ہوئی اور بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کروائی گئی، تاہم پی ٹی آئی کی طرف سے کہا گیا کہ بغیر اجازت مذاکرات میں شامل نہیں ہو سکتے۔
آخر میں انہوں نے کہا کہ قومی اسمبلی کے اجلاس میں اسپیکر اپوزیشن لیڈر کے فیصلے سے آگاہ ہوں گے، اور پی ٹی آئی کو وزیراعظم کے ساتھ ملاقات کے بعد اپنے موقف کا اظہار کرنے کا موقع دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے کسی کے موقف کو کم نہیں کیا، بلکہ پی ٹی آئی نے خود اختلاف پیدا کرنے کی کوشش کی تھی۔