اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)وینزویلا کے صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ سیلیا فلورز کو امریکی فوج نے گرفتار کر کے نیویارک منتقل کر دیا ہے۔ امریکی میڈیا کے مطابق، طیارہ اسٹورٹ ایئر نیشنل گارڈ بیس پر اترا اور وہاں سے مادورو کو نیویارک کے فوجی اڈے کے ایک نامعلوم مقام پر منتقل کیا گیا۔
صدر مادورو پر آئندہ ہفتے مین ہیٹن کی وفاقی عدالت میں منشیات اور اسلحہ سے متعلق الزامات عائد کیے جانے کی توقع ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ مادورو کی برطرفی کے بعد امریکا غیرمعینہ مدت تک وینزویلا کے انتظام اور اس کے وسیع تیل کے ذخائر پر کنٹرول رکھے گا۔ ٹرمپ کے مطابق امریکی کمپنیوں کو وینزویلا کی تیل کی صنعت میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کے لیے مدعو کیا جائے گا، اور امریکا کی فوجی موجودگی "تیل سے متعلق امور” کے لیے برقرار رہے گی۔
اس دوران وینزویلا کی نائب صدر ڈیلسی روڈریگز نے مادورو کی رہائی کا مطالبہ کیا اور اسے ملک کے جائز صدر قرار دیا۔ دوسری جانب اپوزیشن رہنما ماریا کورینا ماچادو نے اپوزیشن کے امیدوار کو اقتدار سنبھالنے کا مطالبہ کیا۔ جنوبی فلوریڈا میں مادورو کی گرفتاری پر جشن منایا جا رہا ہے، جبکہ کاراکاس میں تشویش کی فضا پائی جاتی ہے۔
واضح رہے کہ امریکی فوج نے ہفتے کے روز وینزویلا پر ایک ہنگامی آپریشن کیا، جس میں امریکی ڈیلٹا فورس نے مادورو اور فلورز کو ان کے صدارتی محل سے گرفتار کیا۔ صدر ٹرمپ نے بتایا کہ آپریشن کی خفیہ تیاری دسمبر کے اوائل میں کی گئی تھی اور کئی جہازوں اور ہیلی کاپٹروں نے اس میں حصہ لیا۔ امریکی حکام کے مطابق مستقبل میں ضرورت پڑنے پر اضافی کارروائیاں بھی کی جا سکتی ہیں۔
یہ گرفتاری وینزویلا میں سیاسی اور اقتصادی منظرنامے میں ایک غیر معمولی اور تاریخی پیش رفت کے طور پر دیکھی جا رہی ہے، جس کے عالمی سطح پر اثرات مرتب ہونے کا امکان ہے۔