اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)کینیڈا کی فوڈ انڈسٹری ایک سنگین بحران سے دوچار ہوتی جا رہی ہے، جہاں آئندہ ایک سال کے دوران ہزاروں ریسٹورنٹس کے بند ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ ڈلہوزی یونیورسٹی کی تازہ پیش گوئیوں کے مطابق آنے والے سال میں ملک بھر میں ریسٹورنٹس کی مجموعی تعداد میں تقریباً 4 ہزار کی کمی متوقع ہے، جو پہلے ہی مشکلات میں گھری اس صنعت کے لیے ایک اور بڑا دھچکا ثابت ہو سکتی ہے۔
فوڈ انڈسٹری کے ماہر اور تجزیہ کار سلوان شارلوبوا کا کہنا ہے کہ سال 2025 پہلے ہی ریسٹورنٹ انڈسٹری کے لیے تباہ کن ثابت ہو چکا ہے، کیونکہ اب تک تقریباً 7 ہزار ریسٹورنٹس کاروبار بند کرنے پر مجبور ہو چکے ہیں۔ ان کے مطابق یہ صورتحال خاص طور پر آزاد اور نجی ملکیت والے ریسٹورنٹس کے لیے زیادہ تشویشناک ہے، جو محدود وسائل کے باوجود جدت، نئے ذائقوں اور مختلف ثقافتی کھانوں کو فروغ دیتے ہیں۔
آزاد ریسٹورنٹ مالکان کے لیے یہ منظرنامہ نہایت تکلیف دہ ہے۔ مونٹریال میں واقع مشہور ریسٹورنٹ "Chez Alexandre” کے مالک الین کریٹن کا کہنا ہے کہ ریسٹورنٹ چلانا پہلے ہی ایک بڑا مالی رسک ہوتا ہے، اور موجودہ حالات میں اس خطرے میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔ ان کے مطابق بہت سے وہ ریسٹورنٹس جو اب بند ہو رہے ہیں، ممکنہ طور پر چند سال قبل ہی شروع ہوئے تھے اور ابھی منافع کے مرحلے تک پہنچ بھی نہیں پائے تھے۔
الین کریٹن نے بتایا کہ انہوں نے خود پچاس سال قبل اپنے کیریئر کا آغاز ایک باورچی کے طور پر کیا، پھر ویٹر، منیجر اور آخرکار ریسٹورنٹ کے مالک بنے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایک ریسٹورنٹ میں اپنی تمام جمع پونجی لگانا ایک بڑا فیصلہ ہوتا ہے، اور اگر خدانخواستہ کاروبار بند ہو جائے تو دس سال یا اس سے زیادہ کی بچت ایک لمحے میں ختم ہو سکتی ہے۔
شارلوبوا کے مطابق بند ہونے والے بیشتر 4 ہزار ریسٹورنٹس آزاد ملکیت کے ہوں گے، جو عموماً نئی تراکیب، منفرد کھانوں اور مختلف ثقافتوں کے ذائقے متعارف کرواتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہی ریسٹورنٹس کینیڈین صارفین کو بغیر پاسپورٹ کے دنیا کی سیر کروانے جیسا تجربہ فراہم کرتے ہیں۔
Chez Alexandre میں وبا کے بعد دو سال تک کاروبار بہتر رہا، تاہم اب حالات دوبارہ بدل چکے ہیں۔ الین کریٹن کے مطابق گھروں سے کام کرنے کے بڑھتے رجحان اور خوراک کی قیمتوں میں مسلسل اضافے نے کاروبار کو شدید متاثر کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ سلاد، مچھلی اور دیگر بنیادی اشیائے خورونوش کی قیمتیں مسلسل بڑھ رہی ہیں، جس سے منافع کم اور اخراجات زیادہ ہو گئے ہیں۔
سلوان شارلوبوا کے مطابق حالیہ تجزیوں سے یہ بھی سامنے آیا ہے کہ لوگ اب ریسٹورنٹس میں کم خرچ کر رہے ہیں۔ البتہ ایک دلچسپ رجحان یہ ہے کہ نوجوان نسل ریسٹورنٹس کے کھانوں پر زیادہ خرچ کر رہی ہے، مگر وہ زیادہ تر کھانا ریسٹورنٹ میں بیٹھ کر کھانے کے بجائے گھروں پر ڈیلیوری کے ذریعے منگوا رہی ہے، جو روایتی ریسٹورنٹ ماڈل کے لیے ایک نیا چیلنج بن چکا ہے۔