کینیڈا کے فضائی اڈوں پر سیکیورٹی فورسز میں نمایاں اضافہ،پانچ سالہ منصوبہ تیار

اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) F-35 کی آمد اور اس سے جڑی سیکیورٹی ضروریات نے کینیڈا کے فضائی دفاع کو ایک نئے اور کہیں زیادہ حساس دور میں داخل کر دیا ہے۔

رائل کینیڈین ایئر فورس کی جانب سے 1,200 سے زائد نئے سیکیورٹی اہلکاروں کی بھرتی کا منصوبہ محض ایک انتظامی فیصلہ نہیں بلکہ اس حقیقت کی عکاسی کرتا ہے کہ ملک کا دفاعی ڈھانچہ تیزی سے بدلتی عالمی صورتحال کے مطابق خود کو ڈھالنے کی کوشش کر رہا ہے۔ جدید اسٹیلتھ طیاروں اور ہائی ٹیک فضائی پلیٹ فارمز کی شمولیت نے جہاں کینیڈا کی عسکری صلاحیت کو مضبوط کیا ہے وہیں ان اثاثوں کی حفاظت ایک نیا اور پیچیدہ چیلنج بھی بن کر سامنے آئی ہے۔
یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دنیا بھر میں جیو پولیٹیکل کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ سائبر جنگ، انٹیلی جنس چوری اور جدید عسکری ٹیکنالوجی کی دوڑ نے قومی سلامتی کے تصورات کو یکسر تبدیل کر دیا ہے۔ اب کسی بھی ملک کے لیے جدید عسکری ساز و سامان کی حفاظت صرف روایتی پہرے داری تک محدود نہیں رہی بلکہ یہ ڈیٹا، سافٹ ویئر، نیٹ ورکس اور بین الاقوامی شراکت داریوں کے تحفظ تک پھیل چکی ہے۔ ایسے ماحول میں دفاعی تنصیبات اور فضائی اڈوں کی سیکیورٹی قومی سلامتی کا بنیادی ستون بن چکی ہے۔
F-35 اسٹیلتھ فائٹر کو دنیا کے جدید ترین لڑاکا طیاروں میں شمار کیا جاتا ہے۔ یہ محض ایک جنگی جہاز نہیں بلکہ ایک اڑتا ہوا ڈیجیٹل پلیٹ فارم ہے جو جدید سینسرز، خفیہ سافٹ ویئر، خودکار ڈیٹا پروسیسنگ اور اتحادی ممالک کے مشترکہ کمانڈ سسٹمز سے جڑا ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس کی حفاظت صرف فزیکل سیکیورٹی تک محدود نہیں رہتی بلکہ معلوماتی، سائبر اور انٹیلی جنس سیکیورٹی کا بھی تقاضا کرتی ہے۔ کسی بھی قسم کی کوتاہی نہ صرف مہنگے اثاثوں کو خطرے میں ڈال سکتی ہے بلکہ اتحادی ممالک کے ساتھ اعتماد کو بھی متاثر کر سکتی ہے۔
اسی تناظر میں رائل کینیڈین ایئر فورس کا یہ منصوبہ کہ اگلے پانچ سالوں میں ملک بھر کے فضائی اڈوں پر سیکیورٹی فورسز کی تعداد میں نمایاں اضافہ کیا جائے، ایک ناگزیر قدم محسوس ہوتا ہے۔ معلومات تک رسائی کے قانون کے تحت سامنے آنے والی اندرونی دستاویزات کے مطابق 2030 تک 1,227 نئے اہلکاروں کی بھرتی کا ہدف رکھا گیا ہے۔ یہ اعداد و شمار اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ یہ کوئی وقتی یا علامتی اقدام نہیں بلکہ ایک طویل المدتی دفاعی حکمت عملی کا حصہ ہے۔
یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ آیا یہ اقدام دفاعی توسیع کی علامت ہے یا محض حالات کی مجبوری۔ وزیر دفاع کے دفتر کے مطابق کینیڈا اپنی فضائیہ میں تقریباً 140 نئے طیارے شامل کرنے جا رہا ہے جن میں F-35 کے علاوہ CC-330 Husky ٹینکر، F-8A Poseidon میری ٹائم پیٹرول ایئر کرافٹ اور F-9B SkyGuardian ڈرون شامل ہیں۔ یہ تمام پلیٹ فارمز جدید ٹیکنالوجی سے لیس ہیں اور حساس ڈیٹا کے ساتھ کام کرتے ہیں۔ دشمن ریاستوں، سائبر جاسوسوں اور غیر ریاستی عناصر کے لیے ایسے اثاثے ہمیشہ پرکشش ہدف رہے ہیں، اس لیے ان کی حفاظت کے لیے اضافی سیکیورٹی فورسز تعینات کرنا دفاعی اخراجات میں اضافے کے باوجود ایک مجبوری بن چکا ہے۔
یہ بات بھی قابل توجہ ہے کہ کینیڈا اس پورے عمل میں اپنے اتحادی ممالک کے تجربات سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہا ہے۔ چونکہ F-35 پروگرام ایک کثیر ملکی منصوبہ ہے، اس لیے امریکہ، برطانیہ اور آسٹریلیا جیسے ممالک پہلے ہی ان طیاروں کی سیکیورٹی سے جڑے عملی مسائل کا سامنا کر چکے ہیں۔ کینیڈا کی جانب سے یہ اعتراف کہ وہ مرحلہ وار اور سوچ سمجھ کر جدید ٹیکنالوجی اپنا رہا ہے، اس بات کی علامت ہے کہ ماضی کی غلطیوں سے سیکھنے کی کوشش کی جا رہی ہے، کیونکہ دفاعی منصوبوں میں جلد بازی اکثر اخراجات اور انتظامی مسائل کو بڑھا دیتی ہے۔
انسانی وسائل کے حوالے سے بھی یہ منصوبہ کئی سوالات اور مواقع اپنے ساتھ لاتا ہے۔ رائل کینیڈین ایئر فورس کے پاس اس وقت تقریباً 15,000 اہلکار موجود ہیں اور آئندہ دو دہائیوں میں یہ تعداد مزید بڑھنے کی توقع ہے۔ ایک جانب یہ خدشہ موجود ہے کہ آیا اتنی بڑی تعداد میں تربیت یافتہ اور قابل اعتماد سیکیورٹی اہلکار دستیاب ہوں گے یا نہیں، دوسری جانب یہ منصوبہ مقامی کمیونٹیز کے لیے روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا کر سکتا ہے۔ فضائی اڈوں کے اطراف میں معاشی سرگرمی میں اضافے کا امکان ہے، بشرطیکہ بھرتی کا عمل شفاف ہو اور تربیت کا معیار عالمی معیار کے مطابق رکھا جائے۔
دفاعی اخراجات میں اضافے کا معاملہ ہمیشہ عوامی بحث کا حصہ رہا ہے۔ جب صحت، تعلیم اور رہائش جیسے شعبے مالی دباؤ کا شکار ہوں تو یہ سوال فطری ہے کہ اربوں ڈالر جدید طیاروں اور سیکیورٹی پر کیوں خرچ کیے جا رہے ہیں۔ تاہم بدلتی عالمی صورتحال میں دفاع پر سرمایہ کاری نہ کرنا مستقبل میں کہیں زیادہ مہنگا ثابت ہو سکتا ہے۔ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کو اعتماد میں لے، اخراجات کی وضاحت کرے اور یہ یقین دہانی کرائے کہ یہ سرمایہ کاری واقعی قومی سلامتی کو مضبوط بنانے کے لیے کی جا رہی ہے۔
مجموعی طور پر 1,200 سے زائد نئے سیکیورٹی اہلکاروں کی بھرتی کا منصوبہ اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ کینیڈا اب دفاعی معاملات کو روایتی انداز میں نہیں دیکھ رہا۔ F-35 اور دیگر جدید فضائی پلیٹ فارمز نے ملک کو نئی عسکری صلاحیت ضرور دی ہے مگر اس کے ساتھ ذمہ داریوں اور خطرات کا بوجھ بھی بڑھا دیا ہے۔ اگر یہ منصوبہ درست منصوبہ بندی، شفافیت اور طویل المدتی وژن کے ساتھ نافذ کیا گیا تو نہ صرف کینیڈا کی فضائی سلامتی مضبوط ہو گی بلکہ عالمی سطح پر اس کا دفاعی وقار بھی مستحکم ہو گا، بصورت دیگر یہ مہنگا منصوبہ عوامی سوالات اور انتظامی دباؤ کی نذر ہو سکتا ہے۔
خبری سرخیوں کے طور پر یہ نکات سامنے آتے ہیں کہ رائل کینیڈین ایئر فورس کا بڑا اقدام، F-35 طیاروں کی حفاظت کے لیے 1,200 سے زائد اہلکار بھرتی ہوں گے۔ کینیڈا کے فضائی اڈوں پر سیکیورٹی فورسز میں نمایاں اضافہ، پانچ سالہ منصوبہ تیار۔ F-35 کی آمد سے قبل سیکیورٹی الرٹ، رائل کینیڈین ایئر فورس کی بھرتیوں کا نیا مرحلہ۔ جدید طیارے، جدید حفاظت، کینیڈا کا فضائی دفاع مضبوط بنانے کی تیاری۔ 2030 تک 1,227 نئے سیکیورٹی اہلکار، اندرونی دستاویزات منظر عام پر آ گئیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو  800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنا مختصر  تعارف کے ساتھ URDUWORLDCANADA@GMAIL.COM پر ای میل کردیجیے۔

امیگریشن سے متعلق سوالات کے لیے ہم سے رابطہ کریں۔

کینیڈا کا امیگریشن ویزا، ورک پرمٹ، وزیٹر ویزا، بزنس، امیگریشن، سٹوڈنٹ ویزا، صوبائی نامزدگی  .پروگرام،  زوجیت ویزا  وغیرہ

نوٹ:
ہم امیگریشن کنسلٹنٹ نہیں ہیں اور نہ ہی ایجنٹ، ہم آپ کو RCIC امیگریشن کنسلٹنٹس اور امیگریشن وکلاء کی طرف سے فراہم کردہ معلومات فراہم کریں گے۔

ہمیں Urduworldcanada@gmail.com پر میل بھیجیں۔

    📰 اقوامِ متحدہ سے تازہ ترین اردو خبریں