اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) کینیڈین میڈیا کے مطابق کینیڈین فوج کے اہلکار منیٹوبا پہنچنا شروع ہو گئے ہیں
جو جلد ہی کراس لیک کے قریب واقع پیمیسیکامک فرسٹ نیشن میں تعینات کیے جائیں گے۔ اس بات کی تصدیق کمیونٹی کے چیف ڈیوڈ مونیا نے کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ فوج کی آمد انتہائی ضروری ہو چکی تھی کیونکہ حالات اب بھی سنگین ہیں اور یہ تاثر درست نہیں کہ سب کچھ معمول پر آ چکا ہے۔
چیف ڈیوڈ مونیا نے اتوار کے روز سوشل میڈیا پر بتایا کہ سات افراد پر مشتمل ایک تکنیکی جائزہ ٹیم علاقے میں تعینات کی جا رہی ہے۔ اس ٹیم میں انجینئرنگ کے ماہرین اور مواصلاتی نظام کے ماہرین شامل ہیں۔ ان کا مقصد متاثرہ انفراسٹرکچر کا تفصیلی جائزہ لینا اور فوری ضرورتوں کا تعین کرنا ہے تاکہ اگلے اقدامات طے کیے جا سکیں۔
انہوں نے کہا کہ ایک دوسری ٹیم بدھ کے روز پہنچنے کی توقع ہے جو اپنے ساتھ اضافی سامان اور آلات بھی لا سکتی ہے۔ چیف مونیا کے مطابق یہ عمل انفراسٹرکچر کی بحالی کی جانب ایک اہم قدم ہے اور اس سے مرمت کا کام محفوظ اور تیز رفتاری سے آگے بڑھایا جا سکے گا۔
واضح رہے کہ 28 دسمبر کو شدید موسم کے باعث کراس لیک میں بجلی مکمل طور پر بند ہو گئی تھی جس کے بعد کمیونٹی کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ بجلی کی بندش کے نتیجے میں پانی کی فراہمی، سیوریج سسٹم اور گھروں کی حرارت جیسے بنیادی نظام ناکام ہو گئے تھے۔ چیف مونیا کا کہنا ہے کہ کمیونٹی کو مکمل بحالی کے لیے ابھی طویل سفر طے کرنا ہوگا۔
انہوں نے بتایا کہ جیسے جیسے برف پگھل رہی ہے، مرمتی ٹیموں کو گھروں میں پانی کے رساؤ، سیوریج بیک اپ اور دیگر نقصانات کا سامنا ہو رہا ہے۔ ان مسائل سے یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ نہ صرف ہنگامی مرمت بلکہ مستقل انفراسٹرکچر کی تبدیلی بھی ناگزیر ہے۔رپورٹ کے مطابق 30 افراد پر مشتمل ایک موبائل کیمپ بھی کراس لیک کی جانب روانہ کیا جا رہا ہے۔ اس کے ساتھ تربیت یافتہ کاریگروں کی ایک ٹیم بھی ہو گی جو پلمبنگ، الیکٹرک اور متاثرہ گھروں کی بحالی کے کام انجام دے گی۔ یہ ٹیمیں گھروں کو قابل رہائش بنانے اور لوگوں کو جلد از جلد واپس لانے میں مدد فراہم کریں گی۔
چیف ڈیوڈ مونیا نے اس بحران کے آغاز پر وزیراعظم کے دفتر کو ایک کھلا خط بھی لکھا تھا جس میں انہوں نے وفاقی حکومت سے مدد کی اپیل کی تھی۔ ان کے مطابق اس صورتحال سے چار ہزار سے زائد افراد متاثر ہوئے ہیں جنہیں فوری اور مؤثر امداد کی ضرورت ہے۔
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ کمیونٹی حکومت کینیڈا کے ادارے انڈیجنس سروسز کینیڈا اور کینیڈین ریڈ کراس سے مالی معاونت حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ 9 جنوری کو ریڈ کراس نے پیمیسیکامک کری نیشن کے لیے فنڈ ریزنگ مہم شروع کرنے کا اعلان بھی کر دیا تھا۔
چیف مونیا کا کہنا ہے کہ اس وقت کمیونٹی کو ناکافی غسل خانوں، شاور کی سہولیات اور صاف پانی کی شدید کمی کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ گھروں کی مرمت ممکن ہے لیکن لوگوں کو درپیش ذہنی اور جذباتی صدمے کا ازالہ کرنا کہیں زیادہ مشکل ہے۔ صاف پانی اور مناسب سیوریج نظام کی فراہمی بھی ایک بڑا چیلنج بنی ہوئی ہے۔
انہوں نے مزید انکشاف کیا کہ ہفتے کے روز کچھ متاثرہ افراد کو تھامسن شہر میں کھانا بھی فراہم نہیں کیا جا سکا کیونکہ وہاں دیگر تقریبات کے باعث سہولیات دستیاب نہیں تھیں۔ چیف مونیا نے اس صورتحال پر سخت افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کے لوگوں کو کبھی بھی بے گھر، بے سہارا یا بغیر خوراک کے نہیں چھوڑا جانا چاہیے۔
ان کا کہنا تھا کہ کمیونٹی کی قیادت مسلسل کوشش کر رہی ہے کہ متاثرہ افراد کے ساتھ وقار اور احترام کے ساتھ سلوک کیا جائے اور انہیں بنیادی انسانی سہولیات ہر صورت فراہم کی جائیں۔ موجودہ بحران نے ایک بار پھر یہ واضح کر دیا ہے کہ فرسٹ نیشن کمیونٹیز کو ہنگامی حالات میں فوری اور مؤثر حکومتی ردعمل کی اشد ضرورت ہوتی ہے۔