اردوورلڈکینیڈا( ویب نیوز)پشاور میں 9 مئی کے واقعات کی ویڈیوز کی تصدیق کا عمل مکمل ہو گیا ہے، جس کے دوران وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی، کامران بنگش، تیمور جھگڑا اور عرفان سلیم کی موجودگی کو بھی یقینی طور پر تسلیم کیا گیا۔ اس تصدیقی عمل کے لیے پنجاب فرانزک سائنس لیبارٹری نے ویڈیوز کا جامع تجزیہ کیا اور اپنی رپورٹ تیار کر لی ہے۔ رپورٹ پشاور پولیس کی درخواست پر تیار کی گئی اور اس میں 9 مئی کے واقعات کی ویڈیوز اور آڈیو ویزوئل مواد شامل تھا۔
ویڈیوز پشاور کے تھانہ شرقی کی جانب سے فراہم کی گئی یو ایس بی میں محفوظ تھیں، جس میں کل 16 ویڈیوز شامل تھیں۔ فرانزک ماہرین نے ہر ویڈیو کا فریم بہ فریم معائنہ کیا تاکہ کسی قسم کی ترمیم یا جعل سازی کی نشاندہی کی جا سکے۔ رپورٹ کے متن کے مطابق، زیادہ تر ویڈیوز میں کسی قسم کی ایڈیٹنگ کے آثار نہیں پائے گئے، تاہم چند ویڈیوز میں لوگو اور متنی اضافے جیسے معمولی عناصر کی موجودگی نوٹ کی گئی۔
رپورٹ کے مطابق یہ ویڈیوز اصل حالت میں محفوظ رہیں اور ان میں شامل افراد کی شناخت ممکن بنائی گئی۔ اس تجزیے سے 9 مئی کے دوران ہونے والے واقعات کی تصویر واضح ہو گئی ہے اور اس میں شامل سرکاری شخصیات کی موجودگی کی تصدیق ہو گئی ہے۔ فرانزک رپورٹ میں ویڈیوز کی اصلیت اور درستگی کے حوالے سے بھی تفصیلی وضاحت موجود ہے، جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ بیشتر مواد میں کسی قسم کی تبدیلی نہیں کی گئی۔
پشاور پولیس نے رپورٹ حاصل کرنے کے بعد مزید قانونی کارروائی کے لیے یہ مواد متعلقہ محکموں کو فراہم کیا ہے۔ فرانزک رپورٹ کے نتائج سے نہ صرف واقعات کی تصدیق ہوئی بلکہ تحقیقات میں شفافیت بھی یقینی بنائی گئی۔ اس تصدیقی عمل سے متعلق حکام نے کہا کہ ویڈیوز کا تجزیہ مکمل اور معتبر ہے اور آئندہ کی تحقیقات میں اس کا حوالہ دیا جا سکتا ہے۔یہ رپورٹ مستقبل میں قانونی اور عدالتی کارروائی کے لیے بھی اہم ثبوت کے طور پر استعمال ہو سکتی ہے، جس سے 9 مئی کے واقعات کے تمام پہلو واضح طور پر سامنے آئیں گے۔