الزائمرز کے زیادہ تر کیسز کا ایک ہی جین سے تعلق،نئی تحقیق میں حیران کن انکشاف

اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) الزائمرز اور ڈیمینشیا سے متعلق ایک اہم سائنسی پیش رفت میں انکشاف ہوا ہے کہ

الزائمرز کے 10 میں سے 9 کیسز اور ڈیمینشیا کے مجموعی کیسز میں سے تقریباً نصف کا تعلق ایک ہی مخصوص جین سے جڑا ہوا ہے۔ یہ انکشاف یونیورسٹی کالج لندن اور یونیورسٹی آف ایسٹرن فن لینڈ کے محققین کی مشترکہ تحقیق میں سامنے آیا ہے۔تحقیق کے مطابق اگر ایک مخصوص جین APOE شامل نہ ہو تو الزائمرز کے زیادہ تر کیسز وجود میں ہی نہیں آ سکتے۔ ماہرین کے مطابق یہ دریافت الزائمرز کی وجوہات کو سمجھنے اور مستقبل میں مؤثر علاج یا دوا کی تیاری کے لیے ایک اہم سنگِ میل ثابت ہو سکتی ہے۔سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ الزائمرز ایک پیچیدہ بیماری ہے جس کے لاحق ہونے میں عمر، طرزِ زندگی، جینیاتی ساخت اور ماحولیاتی عوامل کا مشترکہ کردار ہوتا ہے۔ ان تمام عوامل میں APOE جین کو طویل عرصے سے الزائمرز کے خطرے میں اضافے کی ایک بڑی وجہ سمجھا جاتا رہا ہے، تاہم اب اس جین کے کردار کو کہیں زیادہ بنیادی قرار دیا جا رہا ہے۔
تحقیق کے مطابق ہر انسان کے جسم میں APOE جین کی دو کاپیاں موجود ہوتی ہیں، جو تین عام اقسام یا ویریئنٹس ε2، ε3 اور ε4 میں پائی جاتی ہیں۔ ماضی کے مطالعوں سے یہ بات سامنے آ چکی ہے کہ ε4 ویریئنٹ ڈیمینشیا اور الزائمرز کے خطرات میں نمایاں اضافہ کرتا ہے، کیونکہ یہ ایسا پروٹین بناتا ہے جو دماغ میں نقصان دہ امیلائڈ بیٹا پروٹین کو مؤثر طریقے سے صاف نہیں کر پاتا۔
امیلائڈ بیٹا پروٹین دماغ کے خلیات کے درمیان جمع ہو کر دماغی صلاحیت، یادداشت اور سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کو متاثر کرتا ہے، جسے الزائمرز کی بنیادی علامات میں شمار کیا جاتا ہے۔تاہم تازہ ترین تحقیق میں ایک نیا اور حیران کن پہلو سامنے آیا ہے۔ محققین کے مطابق ε3 ویریئنٹ، جسے ماضی میں عموماً الزائمرز کا براہِ راست سبب نہیں سمجھا جاتا تھا، بیماری کے پھیلاؤ میں ایک اضافی اور لازمی کردار ادا کرتا ہے۔ تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ ε3 ویریئنٹ کے بغیر الزائمرز کے کیسز وقوع پذیر نہیں ہو سکتے، خواہ ε4 ویریئنٹ موجود ہی کیوں نہ ہو۔
ماہرین کے مطابق یہ دریافت اس نظریے کو بدل سکتی ہے کہ الزائمرز صرف ایک خطرناک ویریئنٹ کی وجہ سے ہوتا ہے۔ اب سائنس دانوں کا ماننا ہے کہ مختلف APOE ویریئنٹس کے باہمی اثرات بیماری کے آغاز اور شدت کا تعین کرتے ہیں۔تحقیق سے وابستہ سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ APOE جین کے کردار کو بہتر طور پر سمجھنے سے نہ صرف الزائمرز کی ابتدائی تشخیص ممکن ہو سکے گی بلکہ ایسی ادویات تیار کرنے میں بھی مدد ملے گی جو اس جین کے اثرات کو نشانہ بنا سکیں۔ماہرین کا مزید کہنا ہے کہ اگر APOE جین کے مخصوص اثرات کو روکا یا کم کیا جا سکے تو مستقبل میں الزائمرز اور ڈیمینشیا جیسے جان لیوا امراض کی روک تھام ممکن ہو سکتی ہے، جس سے دنیا بھر میں کروڑوں افراد کو فائدہ پہنچ سکتا ہے۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو  800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنا مختصر  تعارف کے ساتھ URDUWORLDCANADA@GMAIL.COM پر ای میل کردیجیے۔

امیگریشن سے متعلق سوالات کے لیے ہم سے رابطہ کریں۔

کینیڈا کا امیگریشن ویزا، ورک پرمٹ، وزیٹر ویزا، بزنس، امیگریشن، سٹوڈنٹ ویزا، صوبائی نامزدگی  .پروگرام،  زوجیت ویزا  وغیرہ

نوٹ:
ہم امیگریشن کنسلٹنٹ نہیں ہیں اور نہ ہی ایجنٹ، ہم آپ کو RCIC امیگریشن کنسلٹنٹس اور امیگریشن وکلاء کی طرف سے فراہم کردہ معلومات فراہم کریں گے۔

ہمیں Urduworldcanada@gmail.com پر میل بھیجیں۔

    📰 اقوامِ متحدہ سے تازہ ترین اردو خبریں