اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو خبردار کیا ہے کہ اگر وہاں گرفتار مظاہرین کو پھانسی دی گئی تو امریکا انتہائی سخت کارروائی کرے گا۔
امریکی میڈیا کو دیے گئے ایک انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ انہیں اس وقت مظاہرین کی پھانسیوں سے متعلق کوئی مصدقہ رپورٹ موصول نہیں ہوئی، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ اگر ایسی کوئی پیش رفت ہوئی تو اس کے نتائج ایران کے لیے نہایت سنگین ہوں گے۔صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکا نہیں چاہتا کہ ایران میں جاری صورتحال اسی طرح آگے بڑھے، لیکن جب ہزاروں افراد کی ہلاکتوں اور پھانسیوں کی بات سامنے آئے گی تو پھر اس کا ردعمل بھی شدید ہوگا۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر امریکا خاموش نہیں رہے گا۔
امریکی صدر نے مزید کہا کہ ایران میں عوامی احتجاج اور مظاہروں کے دوران طاقت کا بے دریغ استعمال ناقابل قبول ہے اور عالمی برادری کو بھی اس معاملے پر سنجیدگی دکھانی چاہیے۔ ان کے مطابق اگر ایرانی حکام نے مظاہرین کے خلاف سخت اقدامات جاری رکھے تو اس کے اثرات صرف ایران تک محدود نہیں رہیں گے۔
یاد رہے کہ اس سے قبل بھی صدر ٹرمپ ایران میں حکومت مخالف پُرتشدد مظاہروں کے حوالے سے سخت بیانات دے چکے ہیں۔ ایک بیان میں انہوں نے مظاہرین کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ ایرانی اداروں کا کنٹرول سنبھالیں، جب کہ امریکا کی مدد جلد پہنچنے والی ہے۔ اس بیان پر عالمی سطح پر مختلف ردعمل سامنے آئے تھے۔اسی تناظر میں امریکی صدر نے اپنے شہریوں اور اتحادی ممالک کے افراد کو بھی ایران چھوڑنے کی ہدایت کی تھی۔ امریکی حکام کے مطابق یہ اقدام ممکنہ سیکیورٹی خطرات کے پیش نظر اٹھایا گیا ہے۔سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ کے حالیہ بیانات ایران اور امریکا کے درمیان پہلے سے کشیدہ تعلقات میں مزید تناؤ پیدا کر سکتے ہیں، جب کہ خطے میں صورتحال کے مزید بگڑنے کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔