اردو ورلڈکینیڈا ( ویب نیوز ) ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ملک میں مظاہرین کو پھانسی دینے کی خبروں کو سختی سے مسترد کر دیا۔
ایرانی وزیر خارجہ نے واضح کیا ہے کہ ایران میں اس نوعیت کا کوئی منصوبہ زیر غور نہیں ، پھانسی کا سوال ہی پیدا نہیںہوتا ہے۔امریکی نشریاتی ادارے فاکس نیوز کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں ایرانی وزیر خارجہ نے ان خبروں کو بے بنیاد اور گمراہ کن قرار دیا جن میں دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ حکومت مظاہرین کو پھانسی دینے جا رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران میں قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے حالات کو کنٹرول کیا گیا ہے اور ریاستی سطح پر کسی اجتماعی یا سیاسی انتقام کی کوئی پالیسی موجود نہیں۔
عباس عراقچی نے بتایا کہ ایران میں حالیہ دنوں کے دوران معاشی مشکلات کے خلاف تقریباً دس دن تک پرامن احتجاج جاری رہا، جسے حکومت نے تحمل اور برداشت کے ساتھ ہینڈل کیا۔ تاہم ان کے بقول اس کے بعد تین دن تک تشدد کا ایک خطرناک سلسلہ شروع ہوا، جو عوامی احتجاج نہیں بلکہ منظم تخریبی کارروائیاں تھیں۔
ایرانی وزیر خارجہ نے الزام عائد کیا کہ یہ پرتشدد واقعات اسرائیل کی جانب سے منظم کیے گئے اور ان میں شامل عناصر کو بیرونِ ملک سے کنٹرول کیا جا رہا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ بعض مظاہرین نے نہ صرف ریاستی املاک کو نقصان پہنچایا بلکہ پولیس اہلکاروں پر فائرنگ کی، داعش طرز کی دہشت گردانہ کارروائیاں کیں اور بعض مقامات پر سکیورٹی اہلکاروں کو زندہ جلانے جیسے سنگین جرائم کا ارتکاب کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ ایسے واقعات کو کسی بھی صورت پرامن احتجاج سے جوڑا نہیں جا سکتا، کیونکہ یہ براہِ راست دہشت گردی اور ریاستی رٹ کو چیلنج کرنے کے مترادف تھے۔ عباس عراقچی کے مطابق ایران کی سکیورٹی فورسز نے ان حالات میں قانون کے مطابق کارروائی کی اور صورتحال کو مزید بگڑنے سے روکا۔
ایرانی وزیر خارجہ نے دعویٰ کیا کہ اب ملک میں حالات مکمل طور پر قابو میں آ چکے ہیں اور امن و امان بحال ہو چکا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ روزمرہ زندگی معمول پر آ رہی ہے اور کسی بھی قسم کی پھانسی یا سخت سزا کے حوالے سے جو خبریں گردش کر رہی ہیں، وہ محض افواہیں اور پروپیگنڈا ہیں۔
انہوں نے دوٹوک انداز میں کہا “میں پورے یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ ایران میں مظاہرین کو پھانسی دینے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے اور نہ ہی حکومت ایسا کوئی قدم اٹھانے جا رہی ہے۔”عباس عراقچی نے عالمی برادری اور بین الاقوامی میڈیا سے مطالبہ کیا کہ ایران سے متعلق خبروں کو شائع کرنے سے قبل حقائق کی تصدیق کی جائے اور یکطرفہ بیانیے سے گریز کیا جائے، کیونکہ غلط معلومات نہ صرف کشیدگی میں اضافہ کرتی ہیں بلکہ خطے کے امن کو بھی خطرے میں ڈال سکتی ہیں۔