اردوورلڈکینیڈا( ویب نیوز)امریکہ نے ایران کے ساتھ کشیدگی اور ممکنہ حملوں کے خدشات کے پیش نظر 75 ممالک کے لیے ویزا کی پروسیسنگ کو معطل کرنے کا اعلان کیا ہے، جو 20 جنوری سے نافذ العمل ہوگا۔ یہ اقدام امریکی وزارت خارجہ کے بیان کے مطابق امیگریشن قوانین اور حفاظتی جائزوں کو سخت کرنے کے ایک بڑے پروگرام کا حصہ ہے۔
بیان میں تفصیلات محدود رہیں، تاہم محکمہ خارجہ کی اندرونی دستاویزات میں ہدایات دی گئی ہیں کہ امریکی سفارتخانوں اور قونصل خانوں کو نئے جائزے مکمل ہونے تک ویزا درخواستیں مسترد کرنے کا اختیار حاصل ہے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق یہ معطلی خاص طور پر امیگرینٹ ویزوں یعنی ایسے ویزوں پر لاگو ہوگی جو مستقل رہائش یا مستقل داخلے کی اجازت دیتے ہیں، جبکہ سیاحت، کاروبار یا تعلیم کے ویزوں کے بارے میں ابھی کوئی واضح ہدایات نہیں دی گئیں۔
متاثرہ ممالک میں ایران، روس، افغانستان، صومالیہ، برازیل، نائیجیریا، تھائی لینڈ، عراق، مصر، یمن، ایتھوپیا اور سوڈان شامل ہیں۔ کچھ غیر حتمی ذرائع کے مطابق پاکستان، بنگلہ دیش، نیپال، اردن، مراکو، لبنان، سریا، یوگنڈا، اریٹیریا، غانا اور دیگر افریقی و ایشیائی ممالک بھی فہرست میں شامل ہو سکتے ہیں۔
امریکی وزارت خارجہ کے ایک ترجمان نے کہا کہ یہ فیصلہ امیگریشن کی جانچ اور سکریننگ کے عمل کا دوبارہ جائزہ لینے کے لیے کیا گیا ہے، خاص طور پر ان درخواست دہندگان کے حوالے سے جو ممکنہ طور پر مستقبل میں امریکی عوامی فوائد یا ویلفیئر پروگراموں پر انحصار کر سکتے ہیں۔ معطلی کے دوران قونصلر افسران کو اختیار دیا گیا ہے کہ وہ موجودہ قوانین کے مطابق درخواستیں مسترد کریں اور نئے جائزے مکمل ہونے تک مزید درخواستیں قبول نہ کریں۔
ماہرین کے مطابق یہ اقدام صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سخت امیگریشن پالیسیوں کے تسلسل کے طور پر لیا گیا ہے، جن میں گزشتہ سال بھی مختلف ممالک کے شہریوں کے لیے پابندیاں اور سخت اسکریننگ کے قوانین نافذ کیے گئے تھے۔ نئی پابندی خاص طور پر ان ممالک کے شہریوں کے لیے حیران کن ہو سکتی ہے جنہیں پہلے ویزا حاصل کرنا نسبتاً آسان تھا، جیسے برازیل یا تھائی لینڈ، جبکہ ایران، افغانستان اور صومالیہ کے شہری پہلے ہی سخت چیلنجز کا سامنا کر رہے ہیں۔