اردو ورلڈ کینیڈ ا( ویب نیوز ) اقوام متحدہ میں ایران کے نائب مستقل مندوب غلام حسین درزی نے سلامتی کونسل کو آگاہ کرتے ہوئے واضح کیا
ہے کہ ایران نہ تو کسی قسم کی کشیدگی چاہتا ہے اور نہ ہی براہِ راست تصادم کا ارادہ رکھتا ہے، تاہم اگر اس کے خلاف کسی بھی نوعیت کی جارحیت کی گئی تو اس کا بھرپور، فیصلہ کن اور قانونی جواب دیا جائے گا۔سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے غلام حسین درزی نے کہا کہ یہ بیان کسی دھمکی پر مبنی نہیں بلکہ زمینی حقائق اور بین الاقوامی قانون کی روشنی میں دیا گیا مؤقف ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ایسے کسی بھی غیرقانونی اقدام کے تمام نتائج کی ذمہ داری انہی عناصر پر عائد ہوگی جو جارحیت کا آغاز کریں گے۔
ایرانی نائب مندوب نے امریکی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ، جسے انہوں نے “امریکی رجیم” قرار دیا، 12 روزہ جنگ کے ذریعے اپنے مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہی۔ ان کے مطابق اب وہی عناصر سیاسی عدم استحکام پیدا کر کے وہ اہداف حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جن میں انہیں عسکری محاذ پر ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔
غلام حسین درزی نے مزید انکشاف کیا کہ 8 اور 10 جنوری کے دوران ایران کو داعش طرز کی دہشت گردی کا سامنا کرنا پڑا۔ ان واقعات میں منظم انداز میں سرقلم کیے گئے، لوگوں کو زندہ جلایا گیا، اہلکاروں پر تشدد کیا گیا اور ملک میں بدامنی پھیلانے کی کوشش کی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران میں ہلاکتوں کی تعداد کو بڑھا چڑھا کر پیش کر کے بیرونی مداخلت کا جواز پیدا کرنے کی کوشش کی گئی۔
انہوں نے واضح کیا کہ ایران کے خلاف کسی بھی مقصد کے تحت طاقت کے استعمال کی دھمکی، خواہ وہ مظاہرین کے تحفظ یا عوامی حمایت کے نام پر ہی کیوں نہ دی جائے، بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی صریح خلاف ورزی ہوگی۔ ان کے مطابق انسانی ہمدردی کے بہانے طاقت کے استعمال کو جائز قرار دینا بین الاقوامی قانون کا دانستہ اور خطرناک غلط استعمال ہے۔
ایرانی نائب مندوب نے دوٹوک انداز میں کہا کہ ایران کسی بھی قسم کی کشیدگی یا براہِ راست تصادم کا خواہاں نہیں، لیکن اگر کوئی براہِ راست یا بالواسطہ جارحانہ اقدام کیا گیا تو اس کا جواب اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے تحت قانونی، متناسب اور فیصلہ کن ہوگا۔آخر میں غلام حسین درزی نے سلامتی کونسل پر زور دیا کہ اس کی واضح اخلاقی، سیاسی اور قانونی ذمہ داری ہے کہ وہ ایسے تمام غیرقانونی اقدامات کو بروقت مسترد اور ان کی مذمت کرے، اس سے پہلے کہ حالات مزید بگڑ جائیں اور خطے کو ناقابلِ تلافی نقصان کا سامنا کرنا پڑے۔