اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) بنگلادیش پریمیئر لیگ (بی پی ایل) ایک غیر معمولی صورتحال سے دوچار ہو گئی
کھلاڑیوں کے بائیکاٹ کے باعث آج کھیلا جانے والا میچ شروع ہی نہ ہو سکا۔ میرپور ڈھاکا میں شیڈول چٹوگرام رائیلز اور ناؤخلی ایکسپریس کے درمیان میچ کھلاڑیوں کے احتجاج کی نذر ہو گیا، دونوں ٹیمیں ٹاس کے لیے بھی میدان میں نہ پہنچ سکیں۔ذرائع کے مطابق میچ سے قبل ہی کھلاڑیوں نے اجتماعی طور پر بائیکاٹ کا فیصلہ کیا، جس کے نتیجے میں اسٹیڈیم میں شائقین کو شدید مایوسی کا سامنا کرنا پڑا۔ میچ کا باضابطہ آغاز نہ ہونے پر منتظمین کو کھیل ملتوی کرنا پڑا، جبکہ صورتحال پر بنگلادیش کرکٹ بورڈ (بی سی بی) میں بھی تشویش کی لہر دوڑ گئی۔
یہ بائیکاٹ بنگلادیش کرکٹ بورڈ کے ڈائریکٹر نظم السلام کے حالیہ بیان کے ردِعمل میں سامنے آیا ہے۔ کھلاڑیوں کا مؤقف ہے کہ نظم السلام کے بیان نے نہ صرف کرکٹرز کی توہین کی بلکہ ان کے مسائل اور خدشات کو بھی نظر انداز کیا گیا۔ اسی وجہ سے کھلاڑیوں نے پہلے مرحلے میں بی پی ایل کے میچز کے بائیکاٹ کی دھمکی دی تھی، جو اب عملی شکل اختیار کر گئی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ بنگلادیشی کھلاڑیوں نے صرف بی پی ایل تک محدود رہنے کے بجائے تمام فارمیٹس کی کرکٹ کے بائیکاٹ کی دھمکی بھی دی ہے۔ کھلاڑیوں نے واضح مطالبہ کیا ہے کہ نظم السلام فوری طور پر اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں، بصورت دیگر احتجاج کا دائرہ مزید وسیع کیا جائے گا۔کھلاڑیوں کا کہنا ہے کہ وہ اپنے حقوق، عزت اور پیشہ ورانہ وقار پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ ان کے مطابق اگر انتظامیہ نے ان کے تحفظات کو سنجیدگی سے نہ لیا تو مستقبل میں نہ صرف بی پی ایل بلکہ قومی اور ڈومیسٹک کرکٹ بھی شدید متاثر ہو سکتی ہے۔
دوسری جانب بنگلادیش کرکٹ بورڈ کی جانب سے تاحال اس معاملے پر کوئی باضابطہ اور حتمی مؤقف سامنے نہیں آیا۔ تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ بی سی بی حکام کھلاڑیوں اور ٹیم انتظامیہ سے رابطے میں ہیں تاکہ صورتحال کو قابو میں لایا جا سکے اور لیگ کے باقی میچز کو بچایا جا سکے۔
کرکٹ ماہرین کے مطابق اگر یہ تنازع جلد حل نہ ہوا تو بنگلادیش کرکٹ کو بین الاقوامی سطح پر بھی نقصان پہنچ سکتا ہے، کیونکہ بی پی ایل ملک کی سب سے بڑی ٹی ٹوئنٹی لیگ ہے اور اس میں مقامی کے ساتھ غیر ملکی کھلاڑی بھی شریک ہوتے ہیں۔فی الحال شائقین کرکٹ اور منتظمین کی نظریں بنگلادیش کرکٹ بورڈ اور کھلاڑیوں کے آئندہ فیصلوں پر مرکوز ہیں، جبکہ یہ سوال شدت اختیار کر گیا ہے کہ آیا مذاکرات کے ذریعے معاملہ حل ہو پائے گا یا بائیکاٹ کا یہ سلسلہ مزید میچز کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لے گا۔