اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)اوٹاوا اور جنوبی اونٹاریو کے بیشتر علاقوں میں ایک شدید برفانی طوفان نے معمولاتِ زندگی کو بری طرح متاثر کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں سکول بسیں منسوخ ہو گئی ہیں جبکہ سڑکوں پر متعدد حادثات پیش آئے ہیں۔
کم دباؤ کا یہ موسمی نظام صوبے کے زیادہ تر حصوں میں “نمایاں” مقدار میں برفباری لے کر آ رہا ہے۔ کینیڈا کے دارالحکومت اوٹاوا میں جمعہ کی صبح تک 20 سے 35 سینٹی میٹر برف پڑنے کی توقع ہے۔ بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب درجہ حرارت میں اچانک کمی نے اس طوفان کی شدت میں اضافہ کیا، جبکہ تیز ہواؤں کے باعث شہر کے مختلف علاقوں میں برف کے بگولے اور پھسلن پیدا ہو رہی ہے۔
درجہ حرارت منفی 14 ڈگری سینٹی گریڈ کے آس پاس ہے، تاہم ہوا کے باعث محسوس ہونے والا درجہ حرارت منفی 22 ڈگری تک جا رہا ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق رات کے وقت ونڈ چِل کے باعث محسوس ہونے والا درجہ حرارت منفی 27 ڈگری تک گر سکتا ہے۔
اونٹاریو صوبائی پولیس (OPP) نے بتایا ہے کہ جمعرات کی صبح 5 بجے سے مشرقی اونٹاریو میں درجنوں ٹریفک حادثات پر کارروائی کی گئی ہے، تاہم حکام کے مطابق زیادہ تر حادثات معمولی نوعیت کے تھے۔
اگر آج آپ کے لیے باہر جانا ضروری نہیں ہے تو بہتر ہوگا کہ سڑکوں سے دور رہیں۔ اگرچہ برف زیادہ جمع نہیں ہوئی، لیکن تیز ہواؤں کی وجہ سے کئی سڑکوں کے حصوں پر برف کے ڈھیر بن گئے ہیں جو خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں :اونٹاریو لبرل پارٹی کی سربراہ بونی کرومبی کااستعفیٰ، نئی قیادت کی راہ ہموار
اوٹاوا کی بلدیہ نے برف ہٹانے کے عمل کو مؤثر بنانے کے لیے پارکنگ پابندی کا اعلان کیا ہے، جو 15 جنوری شام 7 بجے سے جمعہ صبح 7 بجے تک نافذ رہے گی۔ حکام کا کہنا ہے کہ اگر برف صاف کرنے والی ٹیموں کو مزید وقت درکار ہوا تو اس پابندی میں توسیع بھی کی جا سکتی ہے۔
شہر انتظامیہ نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنی گاڑیاں سڑکوں سے ہٹا لیں۔ پارکنگ پابندی کے دوران شہریوں کے لیے متبادل پارکنگ کی سہولتیں دستیاب ہیں، جن میں او سی ٹرانسپورٹ پارک اینڈ رائیڈ، کچھ تفریحی مراکز، اور شہر کی ملکیتی پارکنگ گیراجز شامل ہیں۔
برفانی طوفان کے باعث 15 جنوری کو متعدد تعلیمی بورڈز کے تحت اسکول جانے والی بسیں منسوخ کر دی گئی ہیں۔ ان میں اوٹاوا کیتھولک اسکول بورڈ، اوٹاوا-کارلٹن ڈسٹرکٹ اسکول بورڈ، کونسیے دے ایکول کیتھولک دو سینٹر-ایسٹ (CECCE) اور کونسیے دے ایکول پبلک دے لیسٹ دے لاؤنٹاریو شامل ہیں۔تاہم حکام نے واضح کیا ہے کہ تمام اسکول کھلے رہیں گے، اگرچہ طلبہ کے لیے ٹرانسپورٹ دستیاب نہیں ہوگی۔