اردوورلڈکینیڈا ( ویب نیوز)قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف اور تحریک تحفظ آئین پاکستان کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے کراچی میں محمد زبیر کی رہائش گاہ پر عشائیے سے خطاب کرتے ہوئے ملک کی موجودہ سیاسی و اقتصادی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا اور عوام سے ملک کے آئین اور بنیادی حقوق کے تحفظ کے لیے متحد ہونے کی اپیل کی۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان متعدد اندرونی بحرانوں کا شکار ہے جو ملک کے اپنے اندر پیدا کیے گئے ہیں۔ ملک کے کچھ ادارے اپنی اصل ذمہ داریوں کے بجائے غیر مناسب کام کر رہے ہیں، تاہم فوج کے کردار کو انہوں نے سراہتے ہوئے کہا کہ ملک کی فوج دنیا کی بہترین ہے اور ملک کے بغیر فوج کے چلنا ممکن نہیں۔
انہوں نے کہا کہ ملک کی تمام سیاسی جماعتیں پانچ چھ نکات پر متفق ہوجا ئیں اور دستخط کریں انہوں نے دعوی کیا کہ عمران خان سے دستخط کرانا میرا کام ہے
قائد حزب اختلاف نے حکومت کی پالیسیوں کو ملک کی معاشی بدحالی کی وجہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ غلط اقدامات کی وجہ سے ملک فاقوں کی طرف بڑھ رہا ہے، بڑی جماعت کے لیڈر جیل میں ہیں اور سیاسی فیصلے ملک کی عوام پر براہِ راست اثر انداز ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کے ساتھ عوام چلیں، کیونکہ وہ ظلم اور ناانصافی کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔
افغانستان اور خطے کے مسائل پر بھی بات کرتے ہوئے محمود خان اچکزئی نے کہا کہ افغانستان ایشیا کا دل ہے اور وہاں کے مسائل کا حل طاقت کے ذریعے نہیں بلکہ مذاکرات اور زمینی حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے ہونا چاہیے۔
انہوں نے واضح کیا کہ تحریک تحفظ آئین کسی بھی سیاسی دشمنی یا اقتدار کی ہوس کے لیے نہیں بلکہ آئین کی حفاظت کے لیے بنی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن اتحاد کے اصل مقاصد میں شامل ہیں عوامی حقوق کا تحفظ، آزاد عدلیہ اور ملک میں شفاف انتخابات کی بحالی۔
8 فروری کو ملک بھر میں ہڑتال کا اعلان کرتے ہوئے انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ گھروں سے نکل کر اپنے ووٹ کے حق، آئین کی بالادستی، اور بانی پاکستان تحریک انصاف کی رہائی کے لیے متحد ہوں۔ اس موقع پر وائس چیئرمین سینٹر راجا ناصر عباس اور سیکریٹری جنرل اسد قیصر بھی موجود تھے، جنہوں نے ملک میں سیاسی بحران اور عوامی مسائل پر بات کی اور شفاف انتخابات، آزاد عدلیہ اور عوامی نمائندگی کی ضرورت پر زور دیا۔
محمود خان اچکزئی نے کہا کہ قومی حکومت کے قیام کے لیے تمام سیاسی جماعتوں کو چند بنیادی نکات پر متفق ہو کر دستخط کرنے چاہئیں، اور اس کے بعد بانی پاکستان تحریک انصاف میں دسخط کرالوں گاتاکہ ملک کو موجودہ بحران سے نکالا جا سکے۔